17 جولائی 2010 - 19:30

امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے گذشتہ روز ”وش“ یونیورسٹی میں ”نبیوں کی آمد کا مقصد“ کے موضوع پر لیکچر دینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

منور حسن نے کہا کہ بنیادی بات یہ ہے کہ مکمل اختیارات کے باوجود اگر صدر آصف علی زرداری بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو منظر عام پر نہ لاسکے تو یہ نااہلی نہیں بلکہ سازش ہوگی، ان تمام لوگوں سے تحقیقات ہونی چاہئے جن کے نام بار بار بینظیر بھٹو کیس کے حوالے سے سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو صدر آصف علی زرداری کہتے ہیں کہ مجھے بینظیر بھٹو کے قاتلوں کا علم ہے اور دوسری طرف وہ پشاور میں وہاں کے لوگوں کو الزام دیکر آئے ہیں کہ آپ بینظیر بھٹو کے قاتل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی مقدار میں قوم کی رقم اقوام متحدہ کے کمیشن کو دی گئی اصل میں تو سب سے پہلے تحقیقات اس شخص سے ہونی چاہئے جس کو بینظیر بھٹو کے قتل سے سب سے زیادہ فائدہ پہنچا ہے اور وہ صدر آصف علی زرداری ہیں، ان سے پوچھ گچھ ہونی چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں سید منور حسن نے کہا کہ دسمبر میں سپریم کورٹ کے 17 رکنی بنچ نے این آر او کے حوالے سے جو فیصلہ کیا تھا اس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوسکا، حکومت وعدے وعید کرتی ہے لیکن پھر اس سے پھر جاتی ہے، عدالت کو چاہئے کہ وہ عملدرآمد نہ کرنے والوں کو توہین عدالت کے نوٹس بھجواکر جیل میں بند کرے تاکہ انہیں عدلیہ کے فیصلوں کا احساس ہو۔

......

/110