اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، انگلینڈ کے علاقے کارن وال میں واقع واحد اسلامی مرکز جمعہ 27 شہریور کی علی الصبح حملے کا نشانہ بنا۔ واقعے کے دوران ایک گاڑی نے جان بوجھ کر ٹرورو کے قریب واقع ’’اسلامک سینٹر آف کارن وال‘‘ کے داخلی دروازے سے ٹکر ماری، جبکہ دو افراد مرکز کے احاطے میں داخل ہوئے اور ایک ایسا مادہ، جس کے بارے میں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ تیل یا ڈیزل ہے، احاطے اور عمارت کی دیواروں پر پھیلا دیا۔ پولیس کے مطابق اس واقعے میں مرکز کے دھاتی دروازوں کو خاصا نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق مرکز کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک گاڑی نے دروازہ توڑنے کے لیے کئی بار کوشش کی، جس کے بعد دو افراد احاطے میں داخل ہوئے۔ انہوں نے پہلے تیل سے مشابہ مادے سے بھری بوتلیں احاطے میں پھینکیں اور پھر واپس آ کر ایک بڑے برتن کے ذریعے یہ مادہ باغ اور عمارت کے اطراف میں پھیلا دیا۔ اس مادے کی نوعیت کی آزادانہ طور پر ابھی تصدیق نہیں ہوئی اور پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
مرکز کے رضاکار امام جماعت حسن کلیچ نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 18 سال بعد یہ مرکز کے خلاف اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں کسی شخص کو جسمانی نقصان نہیں پہنچا، تاہم مرکز کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت، صفائی اور سکیورٹی اقدامات بہتر بنانے پر خاصی رقم خرچ ہوگی۔ اس کے باوجود مرکز کے ذمہ داران نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے ردعمل میں معاشرے میں اتحاد اور علاقے کے دیگر رہائشیوں کے ساتھ مزید رابطے پر زور دیں گے۔
ڈیوون اور کارن وال پولیس اس واقعے کی تحقیقات ’’نسلی تعصب پر مبنی سنگین نوعیت کی املاک کو نقصان پہنچانے‘‘ کے عنوان سے کر رہی ہے۔ پولیس نے عینی شاہدین اور ایسے افراد سے معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے جن کے پاس علاقے میں مشتبہ گاڑیوں سے متعلق سی سی ٹی وی تصاویر یا کوئی معلومات موجود ہوں۔
کارن وال اور جزائر سِلی کے پولیس کمانڈر اسکاٹ بریڈلی نے جائے وقوعہ کے حوالے سے کہا کہ جب تک شواہد اس کے برعکس ثابت نہیں کرتے، کیس کی تحقیقات اسی عنوان کے تحت کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاقے کے رہائشیوں میں تحفظ کا احساس بڑھانے کے لیے پولیس گشت میں اضافہ کیا جائے گا۔
اسلامک سینٹر آف کارن وال کارنون ڈاؤنز کے علاقے میں، ٹرورو کے قریب واقع ہے اور اسے اس علاقے کا مرکزی اسلامی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہ مرکز نماز جمعہ کے علاوہ مسلمانوں کو مذہبی، تعلیمی اور سماجی خدمات بھی فراہم کرتا ہے۔
اس مرکز کو اس سے قبل بھی اسلام مخالف تعصب کے واقعات کا سامنا رہا ہے۔ 2014 میں ایک شخص کو مرکز اور اس کے ارکان کے خلاف توہین آمیز مواد اور پیغامات بھیجنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب برطانیہ کے بعض علاقوں میں مساجد اور اسلامی مراکز کے خلاف حملوں اور اسلام مخالف تعصب کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں انگلینڈ اور ویلز میں مارچ 2025 کو ختم ہونے والے سال کے دوران مسلمانوں کے خلاف مذہبی منافرت پر مبنی 4478 جرائم کے سرکاری اندراج کے اعداد و شمار کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ