20 ستمبر 2026 - 15:31
واشنگٹن پوسٹ: جنگی دباؤ کے دوران امریکہ نے سعودی عرب کا ساتھ چھوڑ دیا

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ میں کہا ہے کہ موجودہ حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط سکیورٹی شراکت داری کو ایسے وقت میں سنگین حدود کا سامنا ہے جب ریاض کو واشنگٹن کی حمایت کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، واشنگٹن پوسٹ نے سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے سکیورٹی اور اقتصادی دباؤ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ موجودہ حالات میں واشنگٹن کی جانب سے ریاض کی حمایت محدود ہے۔ اخبار کے مطابق، یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط سکیورٹی شراکت داری کو ایسے وقت میں سنگین حدود کا سامنا ہے جب ریاض کو اس کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ایران سے ہم آہنگ گروہوں سے منسوب حملوں نے سعودی عرب کے تیل کے بنیادی ڈھانچے، فوجی اڈوں اور توانائی کی ترسیل کے راستوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اسی دوران بحیرہ احمر کے ساحل پر انصار اللہ کی پیش قدمی نے سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم، ڈونلڈ ٹرمپ نے اب تک سعودی عرب کی براہِ راست حمایت کے لیے کوئی نئی فوجی مداخلت نہیں کی۔

واشنگٹن پوسٹ نے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے قریب سمجھے جانے والے دو یمنی عہدیداروں کے حوالے سے لکھا کہ واشنگٹن سے مدد حاصل کرنے کی ریاض کی درخواستوں کا عملی جواب نہیں دیا گیا۔ ان میں سے ایک عہدیدار نے کہا کہ یمنی حکومت ’’حوثیوں کے خلاف جاری جنگ میں ٹرمپ حکومت کی عدم شمولیت‘‘ سے مایوس ہے اور بظاہر مدد کی درخواستیں واشنگٹن میں ’’سنی اور دیکھی نہیں گئیں‘‘۔

سعودی عرب میں امریکہ کے سابق سفیر مائیکل رٹنی نے بھی موجودہ صورتحال کے بارے میں کہا کہ سعودی عرب نے ’’کئی دہائیوں تک امریکہ کے ساتھ اپنی فوجی شراکت داری میں بالکل ایسے ہی وقت کے لیے سرمایہ کاری کی‘‘؛ لیکن اب جبکہ وہ وقت آ گیا ہے تو ’’امریکہ آگے نہیں بڑھ رہا‘‘۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ریاض اور واشنگٹن کے تعلقات کئی دہائیوں سے ایک تزویراتی شراکت داری کی بنیاد پر قائم ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے اس تعلق کو ’’تیل کے بدلے سکیورٹی‘‘ کے ماڈل سے تعبیر کیا ہے۔ سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیا ہے اور بڑے دفاعی معاہدوں اور وسیع سرمایہ کاری کے منصوبوں پر عمل کیا ہے۔

تاہم، واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، یہ وسیع سرمایہ کاری اب تک موجودہ بحران میں سعودی عرب کے دفاع کے لیے امریکہ کی براہِ راست فوجی مداخلت کی ضمانت ثابت نہیں ہوئی۔ گزشتہ سال دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے تزویراتی دفاعی معاہدے میں بھی، اخبار کے مطابق، ایک دوسرے کے دفاع کے لیے باہمی فوجی عہد شامل نہیں تھا۔

ٹرمپ حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے واشنگٹن پوسٹ سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ امریکہ کی توجہ ’’قومی سلامتی کے بنیادی مفادات کے تحفظ‘‘ پر ہے، جن میں بحیرہ احمر میں آزادانہ بحری آمدورفت اور ’’علاقائی شراکت داروں کو خطے کے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے اور انہیں حل کرنے کے قابل بنانا‘‘ شامل ہے۔ اس عہدیدار نے سعودی عرب کی فوجی مدد کی درخواست یا ٹرمپ اور محمد بن سلمان کے درمیان گفتگو کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، اس پالیسی کے نتیجے میں ریاض ایسی صورتحال سے دوچار ہے جہاں امریکہ کے ساتھ سکیورٹی شراکت داری کے قیام کے لیے کئی دہائیوں کی سرمایہ کاری کے باوجود اسے اپنے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بڑھتے ہوئے فوجی خطرات اور دباؤ کا سامنا ہے اور ان خطرات سے نمٹنے کا ایک بڑا بوجھ اسے واشنگٹن کی براہِ راست فوجی مداخلت کے بغیر خود اٹھانا پڑ رہا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha