اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے تجمع علمائے مسلمین کی مجلس امناء کے سربراہ شیخ غازی حنینہ نے عالمی مجمع «قادمون» کے زیر اہتمام منعقدہ پہلی بین الاقوامی کانفرنس «بعثت امت محمد» سے خطاب کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی ایران کے بیانات کا حوالہ دیا اور تاریخ کے مختلف ادوار میں اقوام کے کردار اور استبداد و استعمار کے مقابلے میں ان کی جدوجہد کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی ایران کے بیانات اقوام کے تاریخی کردار کے ایک اہم مرحلے کی عکاسی کرتے ہیں۔ امام خمینیؒ نے تقریباً پانچ دہائیاں قبل ہی اقوام کے اپنے حال اور مستقبل کو تبدیل کرنے اور استبداد و استعمار کا مقابلہ کرنے میں کردار پر زور دیا تھا اور ایرانی قوم کی تحریک اس فکر کے عملی اظہار کی ایک مثال ہے۔
شیخ غازی حنینہ نے کہا کہ ایرانی قوم کی تحریک میں مختلف طبقات، مذاہب، سیاسی جماعتوں اور فکری دھاروں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے اور یہ تحریک اس بات کی واضح مثال ہے کہ اقوام اپنی تقدیر کے تعین میں مؤثر کردار ادا کرسکتی ہیں۔
انہوں نے قرآن کریم کی آیات اور روایات کا حوالہ دیتے ہوئے اقوام کے اتحاد اور اجتماعی جدوجہد کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: «إِنَّ اللَّهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّیٰ یُغَیِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ»؛ بے شک اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کرے۔
انہوں نے ایران، فلسطین، لبنان، عراق اور یمن کی اقوام کی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان قوموں نے ظلم، قبضے اور استبداد کے خلاف مزاحمت کی ہے۔ ان کے بقول، فلسطینی قوم ہزاروں شہداء اور زخمیوں کے باوجود اپنی مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ لبنان، عراق اور یمن کی اقوام نے بھی خطے کی تبدیلیوں میں اپنا کردار ثابت کیا ہے۔
لبنان کے عالم دین نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کا حوالہ دیا جس میں امتوں کے درمیان «وَہن» کا ذکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوموں کو اپنے اندر موجود خوف، کمزوری اور بے بسی کی اس کیفیت سے نجات حاصل کرنی چاہیے اور اپنی عزت، کرامت اور عزم کو بحال کرکے اپنے مستقبل کے تعین میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
شیخ غازی حنینہ نے ایرانی قوم کو اس راستے میں ایک مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم پچاس برس سے زائد عرصے سے طغیان، استبداد اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے خلاف ڈٹی ہوئی ہے اور یہ تجربہ خطے کی اقوام اور دنیا بھر کے آزاد لوگوں کے لیے قابلِ توجہ ہے۔
انہوں نے آخر میں امید ظاہر کی کہ فلسطینی قوم اپنی مسلسل جدوجہد اور مزاحمت کے ذریعے فلسطین کی آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں کامیاب ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ جنوبی لبنان اور جنوبی شام اسرائیل اور امریکہ کے قبضے اور تسلط سے آزاد ہوں گے۔
آپ کا تبصرہ