16 ستمبر 2026 - 15:33
گارڈین: برطانیہ میں مسلمانوں کو بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا کا سامنا

برطانوی اخبار گارڈین کے ایک مضمون میں برطانیہ میں اسلاموفوبیا میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیاست دانوں پر اس کے تدارک میں غفلت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ مضمون کے مطابق اسلام مخالف بیانیے کا معمول بن جانا انتہائی دائیں بازو کی قوتوں کو مزید مضبوط ہونے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، برطانوی اخبار گارڈین نے آرون کوندنانی کے قلم سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں برطانیہ میں بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا اور اس کے خلاف سیاست دانوں کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ بعض اسلام مخالف مؤقف کا معمول بن جانا انتہائی دائیں بازو کی قوتوں کے لیے مزید مضبوط ہونے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

کوندنانی نے جولائی میں کیے گئے ایک سروے کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ برطانیہ کے ہر پانچ میں سے دو شہریوں کا خیال ہے کہ مسلمان اس ملک کے معاشرے میں ضم نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے ایک تحقیق کا بھی حوالہ دیا جس کے مطابق برطانیہ میں نصف سے زیادہ مسلمانوں کو گزشتہ ایک سال کے دوران ذاتی طور پر کسی نہ کسی قسم کے اسلام مخالف تعصب کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ تقریباً ایک چوتھائی مسلمانوں کو عوامی مقامات پر بھی ایسے تجربات کا سامنا ہوا۔

مصنف نے دو برس قبل برطانیہ میں ہونے والے نسلی فسادات کا بھی ذکر کیا، جن کے دوران ان کے بقول مساجد اور پناہ گزینوں کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ کوندنانی کے مطابق مسئلہ صرف انتہائی دائیں بازو کے گروہوں کی سرگرمیوں تک محدود نہیں، بلکہ زیادہ تشویش ناک بات مسلمانوں یا ایسے افراد کے خلاف نسل پرستانہ تشدد کے حوالے سے پائی جانے والی وسیع بے حسی ہے جنہیں مہاجر یا مسلمان سمجھا جاتا ہے۔

برطانوی سیاست میں اسلاموفوبیا کی جڑیں

گارڈین کے مطابق کوندنانی نے برطانیہ میں موجودہ اسلاموفوبیا کی جڑوں کو 1990 کی دہائی کے سیاسی اور فکری ماحول سے جوڑا ہے۔ ان کے مطابق سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بعض نو قدامت پسند حلقوں نے اسلام کو کمیونزم کی جگہ نئے دشمن کے طور پر پیش کیا۔

انہوں نے لکھا کہ ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے دور میں یہ سوچ سیاسی بیانیے سے آگے بڑھ کر سرکاری اداروں کی پالیسیوں میں بھی نظر آنے لگی۔

مصنف نے ’’پریوینٹ‘‘ پالیسی کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ اس کے تحت ہزاروں سرکاری ملازمین کو تربیت دی گئی تاکہ مسلمانوں کے بعض معمول کے سیاسی اور مذہبی رویوں کو انتہا پسندی کی علامات کے طور پر دیکھا جائے۔ کوندنانی کے مطابق اسی لیے اسلاموفوبیا کو صرف انتہا پسند افراد کے رویے تک محدود نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے ساختی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

فلسطین اور مسلمانوں پر بڑھتا دباؤ

گارڈین کے مضمون کا ایک حصہ فلسطین کے مسئلے سے متعلق ہے۔ کوندنانی کا دعویٰ ہے کہ غزہ میں صیہونی ریاست کی پالیسیوں کے خلاف برطانیہ میں عوامی مخالفت کے باعث بعض حلقوں میں تشویش پیدا ہوئی اور اسی پس منظر میں فلسطین کے حامی بعض مظاہروں کو اسلامی انتہا پسندی کی حمایت یا اس سے ہم آہنگی سے جوڑا گیا۔

انہوں نے برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے 7 اکتوبر 2025 کو ہونے والے مجوزہ احتجاج کے حوالے سے مؤقف کا بھی ذکر کیا۔ کوندنانی کے مطابق اسٹارمر نے ان مظاہروں کو ’’غیربرطانوی‘‘ قرار دیا تھا اور بعض متنازع نعروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

مصنف کا خیال ہے کہ اس طرح کا طرزِ عمل فلسطین سے متعلق سیاسی احتجاج کو ایک سکیورٹی خطرے یا ’’خطرناک غیرملکی نظریے‘‘ کے طور پر پیش کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

اسلاموفوبیا کے معاملے پر سیاسی رویے پر تنقید

مضمون میں کوندنانی نے ان رکاوٹوں کا بھی ذکر کیا ہے جو ان کے مطابق برطانیہ کے عوامی ماحول میں مسلمانوں کے خلاف نسل پرستی کے مسئلے کو اٹھانا مشکل بناتی ہیں۔

ان کے مطابق اسلاموفوبیا سے متعلق مباحث میں اکثر مسلمانوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ بیک وقت اسلامی انتہا پسندی اور یہود دشمنی کے خلاف بھی مؤقف اختیار کریں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ بنیادی مسئلہ ایسا ماحول پیدا کرنا ہونا چاہیے جہاں کسی بھی مذہبی برادری کے خلاف حملوں کو معمول بننے کا موقع نہ ملے۔

کوندنانی نے مضمون کے آخری حصے میں اسلاموفوبیا کو برطانوی معاشرے میں نسل پرستی اور طاقت کے تعلقات کے وسیع تر تناظر میں پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق مہاجرت اور سرحدوں سے متعلق امتیازی پالیسیاں بھی ایک مخصوص سماجی پیغام دے سکتی ہیں۔

انہوں نے برطانیہ کے یوکرینی اور افغان پناہ گزینوں کے ساتھ مختلف رویوں کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ کسی ایک گروہ کے خلاف امتیازی سلوک کا معمول بن جانا دیگر اقلیتوں کے لیے بھی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

مضمون کے اختتام پر برطانوی سیاست دانوں سے اسلاموفوبیا کے مسئلے پر زیادہ سنجیدگی سے توجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha