اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے شام کے دو روزہ دورے کے دوران صدر احمد الشرع، وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اور وزیر داخلہ انس خطاب سے ملاقاتیں اور گفتگو کی۔
فیدان نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم «اینسوشیال» پر اپنے پیغام میں کہا کہ ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب خطہ ایک حساس دور سے گزر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دورے کے پہلے روز انہوں نے شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات کی جبکہ وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اور وزیر داخلہ انس خطاب کے ساتھ بھی مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔
ترک وزیر خارجہ کے مطابق، ان ملاقاتوں میں شام کی وحدت اور علاقائی سالمیت کے تحفظ اور شامی عوام کے لیے پائیدار امن اور خوشحالی کی راہ ہموار کرنے کے مشترکہ عزم کا ایک بار پھر اعادہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں کے دوران ترک صدر کے آئندہ دمشق دورے سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شام کے ترکمانوں سے ملاقات
فیدان نے اپنے دورے کے دوسرے روز شام کے ترکمان نمائندوں سے بھی ملاقات کی۔
انہوں نے کہا کہ ترکمان شامی معاشرے کا ایک قدیم اور اہم حصہ ہیں اور بعث حکومت کے خلاف جدوجہد کے دوران صف اول میں موجود رہے ہیں۔ ان کے مطابق ترکمان اب بھی شام کو ایک مستحکم اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے عمل میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
ترک وزیر خارجہ نے دمشق میں ابن عربی، خالد بغدادی المعروف شیخ خالد نقشبندی اور صلاح الدین ایوبی کے مزارات پر حاضری بھی دی اور ان مقامات کو خطے کے مشترکہ تاریخی ورثے کا حصہ قرار دیا۔
انہوں نے دمشق میں ترک فضائیہ کے شہداء کی یادگار اور سلیمانیہ تکیہ کا بھی دورہ کیا۔
دمشق میں حالات معمول کی طرف بڑھ رہے ہیں
فیدان نے دمشق کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دو روزہ دورے کے دوران انہوں نے دیکھا کہ دارالحکومت کی سڑکیں بتدریج سکون اور معمول کی سرگرمیوں کی طرف واپس آرہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر خوشی ہے کہ شامی عوام اپنی قوت اور ارادے کے ذریعے ایک محفوظ، مستحکم اور ترقی یافتہ ملک کی تعمیر کررہے ہیں، ایسا ملک جس میں معاشرے کے تمام طبقات کو شامل کیا جائے۔
فیدان نے آخر میں کہا کہ ترکی موجودہ مرحلے میں بھی شام کی حمایت جاری رکھے گا۔
ترکی کے وزیر خارجہ اتوار کو دمشق پہنچے تھے، جہاں انہوں نے شامی صدر احمد الشرع کے علاوہ وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ سے بھی ملاقاتیں کیں۔
ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے طریقوں اور باہمی دلچسپی کے متعدد علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آپ کا تبصرہ