اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی حکومت کی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل یتسحاق بریک نے اسرائیلی اخبار معاریو میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں اس حکومت کی فوج میں افرادی قوت کے بڑھتے ہوئے بحران پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بریک نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران صیہونی فوج کی زمینی طاقت میں آنے والی کمی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ زمینی فوج کے حجم میں تقریباً دو تہائی کمی ہوچکی ہے۔ اس کے نتیجے میں فوج کو ریزرو اہلکاروں کی شدید کمی کا سامنا ہے اور تقریباً تین سال سے جنگ اور فوجی کارروائیوں میں مصروف یونٹوں کی جگہ لینے کے لیے بھی کافی اہلکار موجود نہیں۔
مختلف محاذوں پر فوجیوں کا مسلسل دباؤ
اس ریٹائرڈ صیہونی جنرل نے کہا کہ مختلف محاذوں پر تعینات فوجی مسلسل دباؤ میں ہیں اور انہیں تربیت اور اپنی جنگی صلاحیت بحال کرنے کے لیے مناسب وقت نہیں مل رہا۔
ان کے مطابق اس صورتحال نے متعدد محاذوں پر جنگ جاری رکھنے اور طویل عرصے سے جمع ہونے والے دباؤ کو برداشت کرنے کی اسرائیلی فوج کی صلاحیت کو کم کردیا ہے۔
بریک نے خبردار کیا کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو صیہونی فوج کو جنوبی لبنان میں محاذوں سے اپنی فوج بتدریج پیچھے ہٹانا پڑ سکتا ہے۔ ان کے بقول، اس صورت میں شمالی علاقوں کے صیہونی آبادکار دوبارہ اسی غیر محفوظ صورتحال کا سامنا کرسکتے ہیں جس کا انہیں جنگ سے قبل سامنا تھا۔
انہوں نے صیہونی حکومت کے سیاسی اور فوجی اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان اداروں نے گزشتہ برسوں کے واقعات سے ضروری سبق حاصل نہیں کیا اور ان حالات کی تکرار روکنے میں ناکام رہے جنہوں نے موجودہ بحران کو جنم دیا۔
نظرانداز کی جانے والی وارننگز
بریک نے کہا کہ وہ کئی سال قبل ہی زمینی فوج کی تعداد بڑھانے اور اس کی صلاحیت مضبوط بنانے کی ضرورت کے بارے میں خبردار کرچکے تھے۔ انہوں نے مستقبل کی جنگوں کے لیے فوج کو مکمل طور پر تیار رکھنے پر بھی زور دیا تھا۔
ان کے مطابق صیہونی فوج کو مستقبل کی جنگوں کا سامنا کرنے کے لیے جدید آلات اور دفاعی و جنگی نظام درکار ہیں، جن میں طاقتور لیزر نظام، 10 لاکھ سے زائد ڈرونز، میزائل ہتھیار اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔
ریٹائرڈ جنرل نے دعویٰ کیا کہ فوج کی کمزور ہوتی صلاحیت کے حوالے سے ان کی رپورٹس اور وارننگز پر توجہ نہیں دی گئی۔ غزہ کے اطراف بحران شروع ہونے سے قبل بھی ان انتباہات کو نظرانداز کیا جاتا رہا، جبکہ جنگ کے دوران پیش آنے والے بعض واقعات کی وہ پہلے ہی اپنی رپورٹس میں پیش گوئی کرچکے تھے۔
بحران سے نکلنے کے لیے چار تجاویز
بریک نے افرادی قوت کے بحران سے نمٹنے کے لیے چار فوری اقدامات تجویز کیے ہیں۔
ان کی پہلی تجویز لازمی فوجی سروس کی مدت کو دوبارہ مکمل تین سال کرنے سے متعلق ہے تاکہ فعال فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جاسکے۔
انہوں نے گزشتہ برسوں کے دوران فوجی یونٹوں میں کمی کے نتیجے میں سروس سے نکالے گئے ایک لاکھ سے زائد ریزرو اہلکاروں کو دوبارہ فوجی نظام میں شامل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق موجودہ ریزرو فوجیوں پر پہلے ہی شدید دباؤ ہے اور ان ایک لاکھ سے زائد اہلکاروں کا فوجی نظام سے باہر رہنا افرادی قوت کے بحران کو مزید سنگین کررہا ہے۔
اس صیہونی جنرل نے تقریباً 50 ہزار ایسے افراد کے خلاف قانون نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا جو فوجی سروس سے گریز کرتے ہیں۔
انہوں نے صیہونی فوج میں مستقل ملازمت کے ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق موجودہ نظام کی وجہ سے ہزاروں باصلاحیت اہلکار فوج سے الگ ہوچکے ہیں اور نوجوانوں میں بھی فوج میں شمولیت کا رجحان کم ہوا ہے۔
’’یہ ایک ساختی بحران بن چکا ہے‘‘
بریک نے واضح کیا کہ صیہونی فوج کا موجودہ مسئلہ کسی ایک فوجی فیصلے یا کارروائی تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ’’ساختی بحران‘‘ بن چکا ہے۔
ان کے مطابق اس بحران سے نمٹنے کے لیے زمینی فوج، افرادی قوت کی فراہمی کے نظام اور فوج کے کمانڈ ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔
انہوں نے صیہونی حکومت میں وزارت عظمیٰ کے امیدواروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے عملی منصوبے پیش کرنے کے بجائے انتخابی ووٹ حاصل کرنے کے لیے زیادہ تر عوام پسندانہ بیانات اور نعروں پر توجہ دے رہے ہیں۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب صیہونی فوج کئی محاذوں پر برسوں سے جاری فوجی کارروائیوں کے باعث ریزرو فوجیوں کی تھکن، افرادی قوت کی کمی اور فعال فوجی یونٹوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ سمیت متعدد مسائل کا سامنا کررہی ہے۔ صیہونی حکومت کے بعض عہدیداروں اور فوجی ماہرین کے مطابق یہ مسائل متعدد محاذوں پر فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کی فوج کی صلاحیت کو متاثر کرسکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ