اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اقوام متحدہ میں شام کے مستقل نمائندے ابراہیم علبی نے سلامتی کونسل کے سامنے ہونے والے ایک احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بنیامین نیتن یاہو کے شام کی سرزمین میں داخل ہونے کی مذمت کی اور کہا کہ دمشق اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی پر خاموش نہیں رہے گا۔
یہ احتجاجی اجتماع اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے متعدد سفیروں کی شرکت سے شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی حمایت میں منعقد کیا گیا۔
شام کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں
ابراہیم علبی نے کہا کہ خودمختاری کسی کی مرضی یا انتخاب کا معاملہ نہیں اور کسی ملک کی علاقائی سالمیت پر مذاکرات نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستوں کی خودمختاری بین الاقوامی نظام کے بنیادی ستونوں میں سے ایک اور عالمی سطح پر عدم استحکام کے خلاف پہلی دفاعی دیوار ہے۔
شامی نمائندے نے خبردار کیا کہ ریاستوں کی خودمختاری کو کمزور کرنا اور ان کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرنا عالمی امن کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے بین الاقوامی نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
ان کا یہ بیان نیتن یاہو اور صیہونی ریاست کے وزیر جنگ یسرائیل کاتس کے شام کے علاقے جبل الشیخ میں داخل ہونے کے بعد سامنے آیا۔ دمشق نے اس اقدام کو غیر قانونی اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے شام کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
سعودی عرب، قطر، کویت، مصر، اردن اور یمن نے بھی الگ الگ بیانات میں صیہونی ریاست کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
1974 کے معاہدے پر عمل درآمد کا مطالبہ
اقوام متحدہ میں شام کے نمائندے نے اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قوانین، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور 1974 کے معاہدے میں طے شدہ انتظامات کی مکمل پاسداری کی ضرورت پر زور دیا۔
دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد صیہونی فوج نے شام کے بفر زون اور اس کے بعض علاقوں، جن میں جبل الشیخ کی چوٹی بھی شامل ہے، میں پیش قدمی کی تھی۔ صیہونی ریاست نے اس اقدام کو سرحدی سلامتی کے لیے عارضی قرار دیا تھا، تاہم اقوام متحدہ نے بفر زون کو فوجی دستوں سے خالی رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور وہاں صرف امن فوج کی موجودگی کی اجازت ہے۔
علبی نے کہا کہ شام نے ہمیشہ خطے میں کشیدگی بڑھانے سے گریز کیا ہے اور اس کا مؤقف رہا ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے لیے کوئی خطرہ نہیں بنے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ شام کے داخلی معاملات کو کمزور کرنے والی کوئی بھی فوجی یا سیاسی کارروائی ملک میں دہشت گ
آپ کا تبصرہ