اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے بدھ کی شب جنوبی لبنان کے الخیام، صربین، المنصوری، النبطیہ الفوقا اور حداثا و حاریص کے درمیان واقع العرائش کے علاقے پر متعدد فضائی حملے کیے۔ لبنانی قومی خبررساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے وادی السلوقی کی سمت القنطرہ پر بھی دو حملے کیے۔
لبنان کی وزارت صحت کے ہنگامی آپریشنز مرکز نے بتایا کہ النبطیہ کے علاقے میں مرج حاروف اور زبدین کے درمیان سڑک پر ایک گاڑی کو اسرائیلی ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص شہید اور دو زخمی ہوگئے۔
لبنانی فوج نے بدھ کے روز خبردار کیا کہ اسرائیلی حملوں میں شدت سے لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد خطرے میں پڑ رہا ہے۔
لبنانی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی جارحیت کا تسلسل ’’موجودہ مفاہمتوں اور انتظامات کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور جنوبی لبنان میں استحکام قائم کرنے کی فوجی کوششوں میں رکاوٹ بن رہا ہے۔‘‘
لبنانی فوج نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک ویڈیو کے ساتھ جاری کیے گئے بیان میں فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اپنی جانب سے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی بیان کیں اور کہا کہ 26 جون کو معاہدے پر دستخط کے بعد سے اسرائیل کی جانب سے تقریباً 7700 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔
امریکا کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے، جنوبی لبنان کے ان علاقوں سے اسرائیلی فوج کی مرحلہ وار واپسی جہاں اس نے پیش قدمی کی ہے، اور دو ’’آزمائشی‘‘ علاقوں سے لبنانی فوج کی تعیناتی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
لبنانی فوج نے زور دے کر کہا کہ اسرائیلی جارحیت اور خلاف ورزیوں نے ’’ثابت کر دیا ہے کہ قابض حکومت کا حتمی مقصد لبنان کے اندر اور عالمی برادری کے سامنے لبنانی فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔‘‘
فوج نے مزید کہا کہ ’’ان جارحیتوں کا تسلسل اور ان میں شدت، جنوبی لبنان میں تباہی اور وحشیانہ دھماکوں کے ساتھ مل کر اسرائیل کے جارحانہ عزائم کے بارے میں کوئی شک باقی نہیں چھوڑتی اور یہ لبنان کی خودمختاری اور سلامتی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘‘
اسرائیلی حکومت کی جانب سے گزشتہ ہفتے النبطیہ کے قریب علی الطاہر کی پہاڑیوں پر قبضے کا اعلان کیے جانے کے بعد سے اس علاقے پر حملوں میں مزید شدت آئی ہے۔
لبنانی فوج نے کہا کہ ’’قابض حکومت نے گزشتہ دنوں رہائشی علاقوں اور اداروں پر اپنے حملے بڑھا دیے ہیں، جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہداء اور زخمی ہوئے ہیں۔ تازہ ترین واقعے میں کفرا رمان کے علاقے میں کم از کم 12 افراد شہید ہوئے، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔‘‘
رپورٹس کے مطابق گزشتہ جمعے سے اب تک لبنان کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 29 افراد شہید ہوچکے ہیں۔
لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ 2 مارچ سے اب تک لبنان میں جنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 4300 سے تجاوز کر چکی ہے۔
بدھ کے روز جنوبی لبنان، بالخصوص النبطیہ کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس میں لبنانی صدر جوزف عون نے کہا کہ النبطیہ میں سکیورٹی کی تعیناتی اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے معاملے میں لبنانی حکومت کے وعدوں سے منسلک ہے اور جنوبی لبنان میں سکیورٹی کا کوئی خلا اسرائیلی جارحیت کے لیے بہانہ فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’النبطیہ اور ان علاقوں کی سلامتی جہاں اسرائیل کا قبضہ نہیں ہے، لبنان کی جامع سلامتی کا ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے۔‘‘
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے بھی اپنے ترجمان کے ذریعے جنوبی لبنان، بالخصوص النبطیہ اور اس کے اطراف میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر ’’گہری تشویش‘‘ کا اظہار کیا اور خواتین اور بچوں سمیت شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی مذمت کی۔
دوسری جانب تقریباً 400 کارکنوں اور ماہرین قانون نے ’’ندائے النبطیہ‘‘ کے عنوان سے ایک عرضداشت پر دستخط کرتے ہوئے اس شہر اور اس کے اطراف میں ’’فوج اور سکیورٹی فورسز کی تعیناتی‘‘ اور ’’حکومت کی جانب سے اس کی سلامتی کی مکمل ذمہ داری قبول کرنے‘‘ کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کی ثالثی میں مذاکرات کے نئے دور کی تیاری جاری ہے، جو ستمبر میں روم میں منعقد ہونے والا ہے۔
آپ کا تبصرہ