اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ بحرین کی وزارت انصاف و اسلامی امور کے فیصلے نمبر 74، سال 2026، کے تحت دینی وعظ اور مرثیہ خوانی کو منظم کرنے کے لیے ایسے ضوابط متعارف کرائے گئے ہیں جن کے دائرے میں حسینی خطیبوں کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مجالس کے منتظمین کی جانب سے انہیں دی جانے والی مالی رقوم بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ان مالی رقوم کی ادائیگی کا اختیار بھی جعفری اوقاف کے سپرد کیے جانے کا امکان ہے، اگرچہ نئے فیصلے میں خطیبوں کے مالی معاوضے کی مقدار مقرر کرنے سے متعلق کوئی واضح شق موجود نہیں ہے۔
یہ فیصلہ سال 2011 کے فیصلے نمبر 56 میں مقرر کردہ ضوابط کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے۔ اس سابقہ فیصلے میں وعظ و تبلیغ کے اجازت ناموں کو منظم کرنے کے ساتھ واعظین کے لیے مالی عطیات کی ایک مخصوص فہرست بھی مقرر کی گئی تھی۔ تاہم ایسے افراد کو اس ضابطے سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا جو وزارت انصاف کے دینی امور کے ادارے کے علاوہ کسی دوسرے ادارے سے رقم وصول کرتے ہوں۔
اگرچہ نئے فیصلے کے ذریعے سابقہ فیصلہ منسوخ نہیں کیا گیا، تاہم اس پر عمل درآمد کا اختیار ’’عبادت گاہوں، مجالس عزا اور دیگر مراکز میں وعظ و ارشاد اور اس سے متعلق امور کے اجازت نامے جاری کرنے والی کمیٹی‘‘ کو دے دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس کمیٹی کے اختیارات میں اضافے کے نتیجے میں مستقبل میں حسینی خطیبوں کو دی جانے والی مالی رقوم کی مقدار اور زیادہ سے زیادہ حد کے تعین میں بھی مداخلت بڑھ سکتی ہے۔
دوسری جانب نئے ضوابط میں خطیبوں کی سرگرمیوں کے لیے شرائط بھی سخت کر دی گئی ہیں۔ اب خطیبوں کے لیے مقررہ معیار پر پورا اترنے کے ساتھ باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کرنا بھی ضروری ہوگا۔
ان شرائط میں ’’اچھے کردار اور طرزِ عمل‘‘ کا باقاعدہ سرٹیفکیٹ پیش کرنا بھی شامل ہے، جو صرف بحرین کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس شرط سے اجازت نامے جاری کرنے کے عمل میں سکیورٹی اداروں کا کردار مزید بڑھ سکتا ہے۔
ان ضوابط سے بحرین کی مجالس اور حسینیہ میں اس وقت خطاب کرنے والے درجنوں حسینی خطیب متاثر ہو سکتے ہیں۔
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرینی حکام ان ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے سکیورٹی دباؤ کے ساتھ گرفتاری اور قید کی دھمکیوں کا بھی استعمال کر رہے ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق یہ اقدامات فقہ جعفری کے بعض اصولوں سے بھی متصادم ہیں۔
رپورٹ میں بحرین کی وزارت انصاف کے اس نئے فیصلے کو محض ایک انتظامی اقدام قرار دینے کے بجائے شیعہ مسلمانوں کی دینی سرگرمیوں سے متعلق حکومت کی مجموعی پالیسی کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔
بحرینی ویب سائٹ ’’مرآة البحرین‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان ضوابط سے مذہبی تبلیغ اور حسینی خطابت کی آزادی محدود ہوگی اور شیعہ مسلمانوں کے مذہبی شعائر اور دینی سرگرمیوں پر حکومتی نگرانی مزید بڑھ جائے گی۔
آپ کا تبصرہ