10 ستمبر 2026 - 16:10
کاتس کی ایران کو دھمکی: اسرائیل پر حملہ ہوا تو ایرانی توانائی تنصیبات نشانہ بنائیں گے

صیہونی حکومت کے وزیر جنگ اسرائیل کاتس نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل پر ایران کی جانب سے کسی بھی حملے کا سخت فوجی جواب دیا جائے گا اور اس کارروائی میں ایران کی اہم توانائی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی حکومت کے وزیر جنگ اسرائیل کاتس نے جمعرات کو یہودی نئے سال کے موقع پر جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں ایران کو ایک بار پھر دھمکی دی اور کہا کہ اگر ایران نے اسرائیل کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کی تو صیہونی فوج پوری شدت کے ساتھ جواب دے گی۔

کاتس نے ایران کی جانب سے ممکنہ کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی قیادت کو اپنی سابقہ دھمکی ایک بار پھر دہرا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل پر کسی بھی وجہ سے اور کسی بھی مقام سے ہونے والے حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں ایران کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا اور یہ نقصان ان تمام نقصانات سے کہیں زیادہ ہوگا جو ایران اب تک برداشت کر چکا ہے۔

صیہونی وزیر جنگ نے اپنی دھمکی کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس ممکنہ کارروائی میں ایران کی اہم توانائی تنصیبات پر حملہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ صیہونی فوج، وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی جانب سے دی گئی ہدایات کے تحت ایسی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

کاتس نے ایران کے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے مداخلت پسندانہ انداز میں کہا کہ ’’اگلے سال تہران میں ملاقات ہوگی؛ ایسا تہران جو جبر اور آمریت سے آزاد ہو۔‘‘

یہ دھمکیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور صیہونی حکومت نے گزشتہ 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ تہران کے مطابق اس جنگ میں تین ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے، جبکہ ایران نے بھی جوابی حملے کیے جن میں متعدد امریکی اور صیہونی فوجی ہلاک ہوئے۔

کاتس نے گزشتہ ہفتے بھی ایران کے خلاف اسی نوعیت کی دھمکی دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایران امریکا کی جانب سے شدید اور گھٹن پیدا کرنے والے معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان فوجی اور معاشی کشیدگی بدستور جاری ہے۔

امریکا اور صیہونی حکومت ایران پر اسرائیل اور خطے کے بعض ممالک کے لیے خطرہ بننے والے جوہری اور میزائل پروگرام کو آگے بڑھانے کا الزام عائد کرتے ہیں، تاہم تہران ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کو پرامن قرار دیتا ہے۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ صیہونی حکومت خطے میں جوہری ہتھیار رکھنے والی واحد ریاست سمجھی جاتی ہے۔ اس کا جوہری ذخیرہ سرکاری طور پر تسلیم شدہ نہیں اور نہ ہی اسے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی حاصل ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha