اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، محمد کسروانی نے شیخ نعیم قاسم کی 4 مارچ 2026 سے ستمبر کے آغاز تک کی تقاریر اور پیغامات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے مجموعی طور پر 20 تقاریر اور پیغامات میں 7 مرتبہ ’’ہیہات منا الذلہ‘‘ اور 8 مرتبہ ’’کربلائی جنگ‘‘، ’’کربلائی روح‘‘، ’’کربلائی موقف‘‘ اور ’’کربلائی و عاشورائی مقابلے‘‘ جیسی اصطلاحات استعمال کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان اصطلاحات کا بار بار استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ مرحلے میں حزب اللہ کے سیاسی اور مزاحمتی بیانیے میں عاشورا کے تصورات کو نمایاں مقام حاصل ہوگیا ہے۔
کسروانی نے شیخ نعیم قاسم کے ان بیانات کا بھی جائزہ لیا ہے جن میں انہوں نے مزاحمت کی جانی و مالی قربانیوں کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق شیخ قاسم ’’قربانی‘‘ اور ’’نقصان‘‘ کے درمیان واضح فرق کرتے ہیں اور مزاحمت کی راہ میں ہونے والی قربانیوں کو لازماً شکست کی علامت نہیں سمجھتے۔
شیخ نعیم قاسم نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں موجودہ جنگ کو ’’کربلائی مقابلہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کے سامنے دو ہی راستے ہیں: استقامت یا شکست و تسلیم۔ اسی تناظر میں ’’ہیہات منا الذلہ‘‘ مزاحمت کی جانب سے ذلت کو مسترد کرنے، عزت و وقار پر قائم رہنے اور دباؤ کے سامنے نہ جھکنے کی علامت بن جاتا ہے۔
رپورٹ میں شیخ نعیم قاسم کی عاشورا کے حوالے سے فکری تشریح کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب ’’عاشورا؛ مدد و حیات‘‘ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ امام حسینؑ کے سامنے جب ذلت قبول کرنے یا ظلم کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا انتخاب ہو تو بھاری قیمت ادا کرنے کے باوجود عزت اور استقامت کا راستہ اختیار کرنا ہی بنیادی اصول بن جاتا ہے۔
اسی فکری بنیاد پر رپورٹ کے مصنف کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اپنی مزاحمتی جدوجہد کو کربلا کی اسی تشریح کے تسلسل کے طور پر پیش کرتی ہے، جہاں دباؤ اور جارحیت کے مقابلے میں استقامت کو بنیادی راستہ قرار دیا جاتا ہے۔
رپورٹ کا ایک اہم حصہ دشمن کے ساتھ مفاہمت اور سمجھوتے کو مسترد کرنے سے متعلق شیخ نعیم قاسم کے مؤقف پر بھی مشتمل ہے۔ ان کے مطابق کربلا کے تاریخی تجربے سے یہ سبق ملتا ہے کہ ظالم قوت کے ساتھ سمجھوتہ یا عارضی امن کی کوشش لازماً سلامتی اور حقوق کے تحفظ کی ضمانت نہیں بنتی، بلکہ طاقت، استقامت اور میدان میں موجودگی ہی دفاعی صلاحیت اور بازدارندگی کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
اسی تناظر میں مصنف نے حزب اللہ کے سابق سیکرٹری جنرل شہید سید حسن نصر اللہ کے بیانات کا بھی حوالہ دیا ہے، جن میں انہوں نے سلامتی اور احترام کے حصول کے لیے طاقت، شجاعت اور میدان میں موجودگی کی اہمیت پر زور دیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق مزاحمتی بیانیے میں عقیدے اور عملی جدوجہد کے درمیان بھی گہرا تعلق قائم کیا جاتا ہے۔ شیخ نعیم قاسم کی جانب سے مزاحمت کے کارکنوں کو ’’حسینی‘‘ قرار دینا اسی فکری تصور کا حصہ ہے، جس میں امام حسینؑ کی استقامت کو موجودہ دور میں مزاحمت کے لیے عملی نمونہ سمجھا جاتا ہے۔
اس تناظر میں ’’ہیہات منا الذلہ‘‘ محض ایک مذہبی یا عاشورائی نعرہ نہیں رہتا بلکہ مزاحمت کے اس تصور کی نمائندگی کرتا ہے جس میں تسلیم اور پسپائی کے مقابلے میں عزت، استقامت اور قربانی کو ترجیح دی جاتی ہے۔
مصنف کے مطابق موجودہ مرحلے میں یہی تصور ’’ہم کربلائی ہیں‘‘ کے بیانیے میں مزید نمایاں ہوکر سامنے آرہا ہے؛ ایسا بیانیہ جس کے ذریعے حزب اللہ اپنی موجودہ جدوجہد کو عاشورا کے پیغامِ مزاحمت، عزت اور ظلم کے سامنے انکار کے ساتھ جوڑتی ہے۔
آپ کا تبصرہ