9 ستمبر 2026 - 15:57
طوفان الاقصیٰ سے 10 روز قبل امارات نے اسرائیل کو حماس کے بڑے حملے سے خبردار کیا تھا: رپورٹ

اسرائیلی اخبار ’’یدیعوت احارونوت‘‘ نے ایک مشرقِ وسطیٰ کے انٹیلی جنس ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے تقریباً 10 روز قبل اسرائیل کو حماس کی جانب سے ایک بڑے اور غیر معمولی حملے کی تیاری سے آگاہ کردیا تھا، تاہم اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس انٹیلی جنس انتباہ اور مبینہ رابطے کی تردید کردی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی اخبار ’’یدیعوت احارونوت‘‘ کے انٹیلی جنس امور کے تجزیہ کار رونن برگمن نے مشرقِ وسطیٰ کے ایک انٹیلی جنس ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ امارات کو ایک انتہائی معتبر ذریعے سے حماس کے ممکنہ بڑے حملے کے بارے میں معلومات ملی تھیں، جو اس نے اسرائیل تک پہنچائی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ انتباہ 7 اکتوبر 2023 کو ہونے والے طوفان الاقصیٰ آپریشن سے تقریباً 10 روز قبل اسرائیلی حکام تک پہنچایا گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس ذریعے نے یہ واضح نہیں کیا کہ امارات نے یہ معلومات اسرائیلی حکام تک کس ذریعے سے پہنچائیں اور نہ ہی یہ تصدیق کی کہ آیا اماراتی صدر محمد بن زاید نے براہِ راست نیتن یاہو سے رابطہ کرکے انہیں اس بارے میں آگاہ کیا تھا یا نہیں۔

یہ دعویٰ اس سے قبل اسرائیلی اخبار ’’ہارٹز‘‘ کی ایک تحقیق میں بھی سامنے آچکا ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی چینل 12 کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تصدیق یا تردید سے گریز کیا ہے۔

نیتن یاہو نے تاہم اس طرح کے کسی رابطے اور انتباہ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل کو ایسی معلومات موصول ہوئی تھیں تو انہیں سکیورٹی اداروں تک پہنچایا جانا چاہیے تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس معاملے نے ایک بار پھر 7 اکتوبر کے واقعات سے قبل موصول ہونے والی ممکنہ انٹیلی جنس اطلاعات کو نظر انداز کیے جانے اور اسرائیل کی سیاسی و سکیورٹی قیادت کی ذمہ داری پر بحث چھیڑ دی ہے۔

’’یدیعوت احارونوت‘‘ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ نیتن یاہو اور محمد بن زاید کے درمیان رابطے انتہائی خفیہ طریقہ کار کے ذریعے ہوتے تھے اور بعض اوقات معمول کے سفارتی ذرائع سے ہٹ کر خصوصی مواصلاتی ذرائع استعمال کیے جاتے تھے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر کے حملے سے قبل مصر کی جانب سے بھی اسرائیل کو حماس کی ممکنہ بڑی کارروائی کے بارے میں خبردار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان تمام دعووں کے سامنے آنے کے بعد اسرائیل میں یہ سوال ایک بار پھر شدت اختیار کرگیا ہے کہ طوفان الاقصیٰ سے قبل موجود انٹیلی جنس انتباہات پر کارروائی نہ کرنے کی ذمہ داری سکیورٹی اداروں پر عائد ہوتی ہے یا سیاسی قیادت پر۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha