اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرینی مصنف عباس المرشد نے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ کسی معاشرے کو محدود کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ ’’شیعوں کے محاصرے‘‘ کے نام سے کوئی قانون بنایا جائے، بلکہ مختلف قوانین اور انتظامی ہدایات کے ذریعے بھی اس مقصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے اوقاف اور مذہبی شعائر سے متعلق ضوابط، انتہاپسندی کے خلاف قوانین اور چندہ جمع کرنے سے متعلق نئے مالیاتی قواعد کو اسی سلسلے کی کڑیاں قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ان اقدامات سے بحرین میں شیعہ اداروں کے لیے آزادانہ سماجی و مذہبی سرگرمیوں کی گنجائش محدود ہورہی ہے۔
المرشد کے مطابق نئے مالیاتی ضوابط کے تحت چندہ جمع کرنے کے اجازت نامے، آمدنی کے ذرائع کی نگرانی، رقوم کے استعمال کی جانچ، ملک کے اندر اور باہر رقوم کی منتقلی، مالی خطرات کا جائزہ، جرمانے اور بعض صورتوں میں مالی اثاثوں میں مداخلت جیسے اختیارات متعلقہ حکام کو حاصل ہوجاتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ اقدامات صرف مالیاتی امور کو منظم کرنے کے لیے ہیں تو پھر شہری اور فلاحی اداروں کی مالی خودمختاری کس حد تک برقرار رہے گی؟
بحرینی مصنف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاملہ محض چندہ جمع کرنے کے ضابطے تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق عوامی اداروں کے پورے مالی نظام کی نگرانی سے ہے۔
المرشد نے بحرین کے شاہی خاندان کے رکن اور انسانی ہمدردی کے امور کے نمائندے شیخ ناصر بن حمد کے اس مؤقف کا بھی حوالہ دیا کہ فلاحی سرگرمیاں بحرینی معاشرے میں گہری جڑیں رکھتی ہیں۔
تاہم مصنف نے سوال اٹھایا کہ اگر فلاحی سرگرمیاں عوام اور سماجی اداروں کی باہمی شراکت کا نتیجہ ہیں تو ان کے مالی معاملات کو بڑھتی ہوئی حکومتی نگرانی کے تحت لانے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟ ان کے بقول اصل سوال یہ ہے کہ حکومت آزاد عوامی فلاحی اداروں کو ترجیح دیتی ہے یا ایسے مرکزی نظام کو جو براہ راست حکومتی نگرانی میں ہو۔
المرشد کے مطابق یہ معاملہ بحرین کی شیعہ برادری کے لیے زیادہ حساس ہے، کیونکہ شیعہ معاشرے میں فلاحی سرگرمیوں کا مذہبی اور سماجی ڈھانچے کے ساتھ دیرینہ تعلق ہے۔ حسینیہ، اوقاف، مقامی امدادی فنڈز، مستحق افراد کی معاونت اور یتیموں کی کفالت جیسے متعدد کام عوامی عطیات اور باہمی تعاون کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان اداروں کے مالی وسائل محدود کیے جانے سے ان کی سماجی سرگرمیوں کا دائرہ بھی متاثر ہوسکتا ہے۔
تجزیے میں مالیاتی ضوابط اور ’’دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات‘‘ اور ’’خطرات کے جائزے‘‘ جیسے سکیورٹی سے متعلق تصورات کے باہمی تعلق پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
المرشد کا دعویٰ ہے کہ جب سرکاری سطح پر بعض شیعہ حلقوں کے ایران سے تعلقات اور بیرونی وفاداریوں کے حوالے سے سکیورٹی خدشات کا اظہار کیا جاتا ہے تو مالیاتی اور فلاحی سرگرمیوں میں بھی سکیورٹی اور سیاسی نقطۂ نظر شامل ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
بحرینی مصنف نے اس صورت حال کی ذمہ داری کسی ایک وزارت یا سرکاری ادارے تک محدود رکھنے کے بجائے پورے سیاسی نظام پر عائد کی ہے۔
انہوں نے اپنے تجزیے کے اختتام پر کہا کہ بظاہر شیعہ اداروں کو براہ راست ختم نہیں کیا جارہا، بلکہ ایسے ضوابط تشکیل دیے جارہے ہیں جن کے ذریعے ان کی سرگرمیاں، مالی وسائل اور کام جاری رکھنے کی صلاحیت بتدریج حکومتی اجازت اور نگرانی سے وابستہ ہوسکتی ہے۔
المرشد نے اسی صورت حال کو ’’شیعوں کے غیر اعلانیہ محاصرے‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ