اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آیت اللہ سید یاسین موسوی نے 4 ستمبر 2026 کو نماز جمعہ کے سیاسی خطبے میں کہا کہ عراق میں نئی حکومت کی تشکیل محض حکومت بنانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کے ساتھ انصاف کا قیام بھی ضروری ہے، کیونکہ انصاف کے بغیر قائم حکومت اپنی بنیادی ذمہ داری اور مقصد کھو دیتی ہے۔
معاشی بحران نے عوام کی مشکلات بڑھا دیں
انہوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی قوتِ خرید میں کمی کے باعث بازار کا بڑا حصہ کساد اور بندش کا شکار ہے، جبکہ کئی ایسی اشیا اور خدمات جو چند برس قبل عام ضرورت یا آسائش سمجھی جاتی تھیں، آج عراق کے ایک بڑے طبقے کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔
آیت اللہ موسوی نے خبردار کیا کہ غربت اور معاشی مشکلات کا اثر اب خاندانی اور سماجی زندگی پر بھی پڑ رہا ہے اور اس کے نتیجے میں مختلف سماجی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سیاسی قیادت کو تبدیل کرنے پر زور
امام جمعہ بغداد نے بعض سیاست دانوں کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ رہنما بحران اور دباؤ کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور حالات معمول پر آنے کے بعد دوبارہ اپنا سابقہ طرزِ عمل اختیار کر لیتے ہیں۔
انہوں نے اعلیٰ دینی قیادت کی سابقہ ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عراق کو ایسے نئے سیاسی رہنماؤں کی ضرورت ہے جن کے بارے میں عوام پہلے سے کسی منفی تجربے کا شکار نہ رہے ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ باشعور قوم صرف خاموش نہیں رہ سکتی بلکہ اسے اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا اور حکام سے جواب طلب کرنا چاہیے۔ انہوں نے اعلیٰ دینی قیادت کی رہنمائی میں ایسی سیاسی قیادت تشکیل دینے پر زور دیا جو علم، انصاف اور ملک چلانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
امریکی دباؤ کے سامنے فیصلے قبول نہ کیے جائیں
آیت اللہ موسوی نے بعض سیاست دانوں پر امریکا پر انحصار کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عراق کی خودمختاری سے متعلق معاملات، بالخصوص اسلحہ صرف ریاست کے اختیار میں رکھنے کا فیصلہ، عراق کا اندرونی معاملہ ہے اور اسے بیرونی دباؤ یا احکامات کے تحت طے نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اسلحہ حوالے کرنے کے بعد مزاحمتی محاذ کے کمانڈروں اور مجاہدین پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور معاملہ آگے چل کر حشد الشعبی کے ڈھانچے، قیادت، طرزِ عمل اور مذہبی تشخص کو تبدیل کرنے تک پہنچ سکتا ہے۔
امام جمعہ بغداد نے کہا کہ عراق کا اصل مسئلہ اسلحہ یا تیل نہیں بلکہ سیاسی خودمختاری اور آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت ہے۔
انہوں نے ایسی حکومت کے قیام پر زور دیا جو حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندہ ہو، انہیں بحران سے نکالنے کے لیے کام کرے، انصاف قائم کرے اور بیرونی طاقتوں پر انحصار سے آزاد ہو۔
آپ کا تبصرہ