17 جولائی 2010 - 19:30

برطانیہ میں مقیم ہندوستانی مسلمان بالخصوص گجرات کے فسادات میں جان سے ہاتھ دھونے والے احسان جعفری کے اہل خاندان نے جرمن ارکان پارلیمان کا ـ نرندرا مودی ـ کو مسلمانوں کے قتل عام پر مجرم قرار دینے پر ـ شکریہ ادا کیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلی ریاست گجرات نرندرا مودی کی شرارت پر گجراتی مسلمانوں کے قتل عام کے دوران قتل ہونے والے احسان جعفری کے اہل خاندان سمیت برطانیہ میں مقیم بھارتی مسلمانوں نے دو جرمن ارکان پارلیمان کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے نرندرا مودی کو گجرات کے مسلم کش فسادات کا مجرم ٹھرایا ہے۔
مسز یوٹ گرانلڈ (Ute Granold) اور مسٹر پاسکال کوبر (Pascal Kober) جو سیاحت کے لئے بھارت کے دورے پر گئے تهے نے گجرات کے وزیر اعلی نرندرا مودی کی آمریت کو نازی جرمن آمر هٹلر سے تشبیہ دے کر کہا تھا کہ مذہبی آزادی سب کے لئے ہے۔
دریں اثناء برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کی انجمن کے سربراہ "مناف زین" نے جرمنی کے ان دو ارکان پارلیمان کے اس دلیرانہ موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا: جب تک گجرات میں مودی برسر اقتدار رہیں گے اس ریاست میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے بیچ صلح و آشتی کا قیام ناممکن ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ سنہ 2002 میں بدترین مسلم کش فسادات کے نتیجے میں ایک ہزار مسلمان انتہاپسند ہندوؤوں کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔ ان فسادات کے بعد ہندوستان میں مذہبی آزادیوں سے متعلق موجودہ قوانین پر نظر ثانی کی گئی اور نرندرا مودی کو کئی ممالک نے نرندرا مودی کو ویزا دینے سے انکار کیا۔
دریں اثناء احمد آباد کےڈپٹی پولیس کمشنرکو گرفتارکوگرفتار کرلیا گیا ہے۔ موصولہ رپورٹ کےمطابق ہندوستان کے مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی نے گجرات میں سہراب الدین فرضی جھڑپ کے معاملے میں ڈپٹی پولیس کمشنر کو گرفتار کیا ہے۔
سی بی آئی سپریم کورٹ کے حکم پر اس فرضی جھڑپ کے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔
اس معاملے میں پہلے ہی تین اعلٰی یولیس افسروں کوگرفتار کیا جا چکا ہے۔
سی بی آئی کے ڈی آئی جی پی کنڈا سوامی نے بتایا ہے کہ سہراب الدین شیخ کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں احمدآباد کرائم برانچ کے ڈپٹی پولیس کمشنر ابھے سوداسما کو گرفتار کیا گیا ہے۔
سہراب الدین شیخ کو گجرات پولیس نے 2005 میں احمدآبار کے نزدیک مبینہ طور پر ایک فرضی جھڑپ میں ہلاک کر دیا تھا۔
پولیس نے دعوٰی کیا تھا کہ سہراب الدین کا تعلق شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ سے تھا اور وہ دوہزاردو  کے گجرات فسادات میں مسلمانوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے وزیراعلی نریندر مودی کو قتل کرنے کے مشن پر تھے لیکن بعد میں عدالت کی مداخلت کے بعد سی آی ڈی کی تفتیش سے پتہ چلا تھا کہ یہ جھڑپ فرضی تھی اور پولیس نے سہراب الدین کے ساتھ ساتھ ان کی بیوی کوثر بی اور ایک ساتھی پرجا پتی کو بھی ثبوت ختم کرنے کے لیے قتل کر دیا تھا۔
گجرات حکومت نے عدالت میں تحریری طور پر یہ اعتراف کیا ہے کہ کئی اعلٰی پولیس افسران اس معاملے میں ملوث ہیں۔
سپریم کورٹ نے سہراب الدین کیس کی تفتیش میں نقائص کے انکشاف کے بعد سی بی آئی کو اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

.................

/110