اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فائننشل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ C430L کے خفیہ نام سے ایک پروگرام 2023ء میں شروع کیا گیا تھا اور اب بھی جاری ہے۔
برطانوی اخبار کا دعویٰ ہے کہ روس کے میزائل شعبے کے متعدد تجربہ کار ماہرین اس منصوبے کے تحت ایران کو ایک جدید اور مختصر ساخت والے جیٹ انجن کی تیاری میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی کروز میزائلوں کو انتہائی تیز رفتاری سے پرواز کرنے کی صلاحیت دے سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس ٹیکنالوجی کو جدید بحری جہاز شکن میزائلوں کی تیاری کے ساتھ ساتھ زمینی اہداف کے خلاف انتہائی درست حملوں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
فائننشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ تیز رفتاری کے ساتھ کم بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت ایسے میزائلوں کا سراغ لگانے اور انہیں روکنے کے لیے فضائی دفاعی نظام کو دستیاب ردعمل کا وقت مزید کم کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں بعض دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روس کی سرکاری اسلحہ برآمد کرنے والی کمپنی اور این پی او ماشینوستروینیا نے اس تعاون کو منظم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
فائننشل ٹائمز کے مطابق، روسی انجینئرز نے نومبر 2023ء میں ایران کی وزارتِ دفاع کے ساتھ باضابطہ معاہدہ طے پانے سے قبل کئی مرتبہ ایران کا دورہ کیا تھا۔ اس کے بعد بھی انہوں نے پرواز کے تجربات سے متعلق اعداد و شمار اور منصوبے کی تکنیکی معلومات کا جائزہ لیا۔
برطانوی اخبار نے ایران اور روس کے درمیان میزائل تعاون کو دونوں ممالک کے وسیع تر فوجی تعلقات کا حصہ قرار دیا ہے اور اسے باہمی تعاون پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران ایران اور روس نے دفاعی اور فوجی شعبوں میں ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔
فائننشل ٹائمز نے جون 2026ء سے متعلق قرار دی جانے والی بعض خط و کتابت کا حوالہ دیتے ہوئے مزید دعویٰ کیا ہے کہ اس پروگرام سے متعلق مذاکرات اور تعاون اب بھی جاری ہے۔
آپ کا تبصرہ