اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین میں گزشتہ برسوں کے سیاسی اور سماجی حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور معاشرے کے ایک بڑے حصے، بالخصوص شیعہ شہریوں کے درمیان اعتماد کا بحران اب بھی برقرار ہے۔ سیاسی اور مذہبی سرگرمیوں پر پابندیوں اور سکیورٹی اقدامات کے باوجود حکومت اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والا یہ فاصلہ کم نہیں ہوسکا۔
2011 میں بحرین میں ہونے والے بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج کے بعد حکومت کی جانب سے سکیورٹی کارروائیاں کی گئیں اور اس کے بعد سیاسی مخالفین، سماجی کارکنوں اور بعض مذہبی اداروں کے خلاف مختلف پابندیاں عائد کی گئیں۔ ناقدین کے مطابق ان اقدامات نے ملک میں سیاسی کشیدگی اور حکومت و عوام کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھایا۔
حالیہ عرصے میں حکومت کی جانب سے مساجد، حسینیوں اور شیعہ مذہبی و اوقافی اداروں کی سرگرمیوں پر نگرانی بڑھانے کے معاملے نے بھی تشویش پیدا کی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ان مذہبی مراکز کے انتظام میں سرکاری اداروں کی بڑھتی ہوئی مداخلت ان کی روایتی خودمختاری کو متاثر کرسکتی ہے اور حکومت و شیعہ برادری کے درمیان اختلافات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
بحرین کی شیعہ برادری میں حسینیے اور اوقافی ادارے صرف مذہبی مراکز نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے سماجی، ثقافتی، تعلیمی اور مقامی سرگرمیوں میں بھی اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ اس لیے ان اداروں کی سرگرمیوں پر عائد ہونے والی پابندیوں کے اثرات مذہبی معاملات سے آگے بھی جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب غزہ جنگ کے دوران بحرین کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں توسیع کی پالیسی بھی بحرین اور خطے کی عوامی سطح پر تنقید کا باعث بنی ہے، کیونکہ فلسطین کا مسئلہ اب بھی عالم اسلام کے اہم ترین مسائل میں شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایسے حالات میں سیاسی اور مذہبی سرگرمیوں پر پابندیوں اور سکیورٹی پالیسیوں کا تسلسل عوامی بے چینی کم کرنے کے بجائے حکومت اور معاشرے کے درمیان خلیج مزید وسیع کرسکتا ہے۔ سیاسی تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کا اعتماد سکیورٹی اقدامات کے ذریعے حاصل نہیں کیا جاسکتا بلکہ پائیدار استحکام کے لیے سیاسی شمولیت، شہری حقوق کا احترام اور سماجی و مذہبی شناختوں کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔
آپ کا تبصرہ