اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین کے شیعہ شہری عبداللہ مطر کی نمازِ جنازہ اور تدفین دمستان گاؤں میں انجام پائی، جس میں بڑی تعداد میں مقامی افراد اور گرد و نواح کے علاقوں سے آنے والے لوگوں نے شرکت کی۔ بعد ازاں انہیں ان کے آبائی علاقے کے ابو رمانہ قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
عبداللہ مطر کے جنازے میں شریک افراد نے ان کے اہل خانہ سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کی تمام تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ کیا جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی۔
رپورٹس کے مطابق، اس سے قبل عبداللہ مطر کے ساتھی عیسیٰ راشد کی لاش بھی کھلے سمندر سے ملی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ دونوں افراد کی لاشیں ملنے سے چند روز قبل انہیں بحرین کے کوسٹ گارڈز کی ایک گشتی کشتی نے تعاقب کا نشانہ بنایا تھا۔
بحرین میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ معاشی مشکلات کے باعث سمندر میں روزگار کی تلاش کرنے والے شہریوں کو کوسٹ گارڈز کی جانب سے تعاقب یا کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔
اکتوبر ۲۰۲۵ میں عبداللہ حسن یوسف کی موت بھی اسی نوعیت کے ایک واقعے میں ہوئی تھی۔ رپورٹس کے مطابق، کوسٹ گارڈز کی ایک گشتی کشتی ان کی کشتی سے ٹکرا گئی، جس کے بعد یہ نوجوان ۱۰ روز سے زائد عرصے تک سمندر میں لاپتا رہا۔ اس واقعے کے بعد بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اپنی ذمہ داری تسلیم نہیں کی اور حادثے کی وجوہات کے حوالے سے مختلف مؤقف پیش کیا۔
بعض رپورٹس میں بحرین کی موجودہ معاشی صورتحال کو بدعنوانی اور ناقص مالی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے سمندر میں روزگار کے ذریعے اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے والے شہریوں کے ساتھ پیش آنے والے ایسے واقعات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ