اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی صحافی اسماء خالد نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کی 25ویں برسی کے موقع پر امریکا میں مسلمانوں کے بارے میں بدلتے ہوئے رویے کا جائزہ لیا ہے۔ ان کے مطابق امریکا 11 ستمبر کے بعد پیدا ہونے والے خوف اور بداعتمادی کے مرحلے سے آگے بڑھ کر ایسے دور میں داخل ہوچکا ہے جہاں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی ایک عام رجحان بن گئی ہے اور بعض بااثر سیاسی شخصیات بھی اسے کھلے عام فروغ دے رہی ہیں۔
خالد نے امریکی جریدے اٹلانٹک میں لکھا کہ 11 ستمبر کے بعد کے برسوں میں امریکا میں مساجد پر حملے، حجاب کرنے والی خواتین کو ہراساں کرنا اور مسلمانوں کی حکومتی نگرانی کے خدشات عام ہوگئے تھے۔ تاہم ان کے مطابق ریاست انڈیانا میں ان کے آبائی علاقے میں مسلمان کئی مواقع پر اب بھی مقامی معاشرے کا معمول کا حصہ سمجھے جاتے تھے۔
انہوں نے اپنے شہر کی مسجد کی یادیں بیان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مسجد 1990 کی دہائی میں تعمیر ہوئی تھی اور اس وقت بھی اسے مختلف نوعیت کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک پڑوسی نے مسجد کو نظروں سے اوجھل رکھنے کے لیے اس کے سامنے مٹی کا ایک بڑا ڈھیر تک بنا دیا تھا۔
11 ستمبر کے حملوں کے بعد مسجد کی ایک کھڑکی پر گولیوں کے نشانات بھی ملے، جبکہ امریکا کی دیگر مساجد اس سے کہیں زیادہ پرتشدد حملوں کا نشانہ بنیں۔
تاہم خالد کے مطابق ان کا ذاتی تجربہ کچھ مختلف رہا۔ وہ اسکول میں معمول کی زندگی گزارتی رہیں، حجاب کرتی تھیں اور تعلیمی سال کے آغاز کی تقریبات میں اپنے حجاب کو اسکول کے رنگوں سے سجاتی تھیں۔ ان کے مطابق شہر کے بہت سے لوگ بھی ان کے ساتھ ایک عام شہری کی طرح پیش آتے تھے، نہ کہ ایسی مذہبی برادری کی نمائندہ کے طور پر جسے دہشت گردی سے جوڑا جاتا ہو۔
ٹرمپ اور اسلاموفوبیا کو معمول بنانے کی سیاست
خالد کے مطابق 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات سے پہلے کے برسوں میں یہ تبدیلی واضح طور پر سامنے آئی، جب امریکی سیاسی گفتگو میں اسلام اور مسلمانوں کو امریکی شناخت کے مخالف کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت وہ امریکی ریڈیو نیٹ ورک این پی آر میں سیاسی صحافی کے طور پر کام کر رہی تھیں اور انہوں نے دیکھا کہ ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ مسلمانوں کے خلاف بیانات دے رہے تھے، جن میں مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کی تجویز اور یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ ’’اسلام ہم سے نفرت کرتا ہے۔‘‘
خالد کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے مسلمانوں کے بارے میں شکوک اور بداعتمادی کو جنم نہیں دیا بلکہ 11 ستمبر کے بعد موجود خوف سے فائدہ اٹھایا، تاہم انہوں نے ان خدشات کو امریکی سیاسی گفتگو کے حاشیے سے نکال کر مرکزی دھارے میں لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے ٹرمپ کے ایک حامی کے ساتھ اپنی گفتگو کا بھی حوالہ دیا، جس نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی شاید خود ان کے لیے بھی فائدہ مند ہو، کیونکہ اس کے بقول مسلمان دہشت گرد کارروائیاں کرسکتے ہیں اور اس صورت میں خالد بھی گرفتار ہوسکتی ہیں۔
خالد کے مطابق آج مسئلہ صرف مسلمانوں کے بارے میں خوف تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکا میں بعض سیاسی شخصیات کی جانب سے اسلاموفوبیا کا کھلے عام اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان میں بعض ارکانِ کانگریس بھی شامل ہیں جو مسلمانوں کو امریکی معاشرے کا حصہ نہ ہونے کا دعویٰ کرتے یا اسلاموفوبیا کو مزید فروغ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ