امریکی ادارے کی شیعیان حجاز کے خلاف امتیازی رویوں پر نکتہ چینی امریکہ میں انسانی حقوق کے ایک ادارے نے سعودی عرب میں اہل تشیع کے حقوق کی تضئیع پر تنقید کی ہے۔ اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں دینی آزادیوں کی بین الاقوامی کمیشن (US Commission on International Religious Freedom) نے سعودی عرب میں اہل تشیع کے خلاف جاری امتیازی رویوں پر تنقید کرتے ہوئے سعودی عرب کی جیلوں میں اسیر سب سے پرانے "دینی اسیر" کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ نیم سرکاری امریکی ادارے نے سعودی عرب میں مذکورہ شیعہ دینی اسیر کو دنیا کا سب سے پرانا دینی اسیر قرار دیتے ہوئے سعودی بادشاہ کے نام اپنے خط میں "ہادی اللطیف" کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ہادی اللطیف 1990 کے عشرے میں گرفتار ہوئے ہیں اوربغیر مقدمہ چلائے اب تک پابند سلاسل ہیں۔ یو ایس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیس فریڈم کے سربراہ "لیونارڈو لیو" (Leonardo Leo) نے کہا: دینی اقلیتوں پر عدلیہ سے وابستہ اداروں کے شدید دباؤ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کا نظام عدل ناقص ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ہادی اللطیف گذشتہ 16 سال کے عرصے سے صرف مذہبی وجوہات کی بنا پر قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں اور انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کی علمبردار متعدد تنظیموں نے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ یادرہے کہ سعودی عرب کا معاشرہ بالکل بند اور گھٹن زدہ معاشرہ ہے جہاں ذرائع ابلاغ پر زبردست سینسر مسلط ہے اور جیلوں کی صورت حال کے سلسلی میں باہر کی دنیا کو ملنے والی اطلاعات بہت کم اور ناقص ہیں اورخیال کیا جاتا ہے کہ ہادی اللطیف جیسے سینکڑوں شیعہ قیدی اس ملک کی جیلوں میں بند ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ شہر الخبر کے باشندوں نے حال ہی میں ایک طومار تیار کیا ہے جس میں دیگر نکات سمیت اس حقیقت کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ سعودی جیلوں میں ایسے قیدیوں کی کمی نہیں ہے جو نوجوانی کے ایام میں سعودی سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ہیں اور ان کی عمریں اس وقت 50 سال سے تجاوز کر گئی ہیں۔
..........
/110
متعلقہ لنکس: