اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی اخبار جروزالم پوسٹ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس حکام ایران کی فوجی صلاحیتوں کی غیر متوقع رفتار سے بحالی پر حیران ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگر ایران ماہانہ 100 سے 300 میزائل تیار کرنے کی صلاحیت دوبارہ حاصل کرلیتا ہے تو وہ 2027 کے اوائل یا وسط تک اپنے میزائل ذخیرے کو جون 2025 کی سطح تک بحال کرسکتا ہے۔
جروزالم پوسٹ کے مطابق ایران کی تیز رفتار بحالی نے نہ صرف اسرائیلی فوج بلکہ موساد کے حکام کو بھی حیران کردیا ہے۔ اسرائیلی ماہرین اور فوجی حکام حالیہ عرصے تک یہ سمجھتے رہے تھے کہ اسرائیلی حملوں نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کئی برس پیچھے دھکیل دیا ہے۔
اخبار نے لکھا ہے کہ اپریل میں ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی جنگ کے خاتمے کے صرف چار ماہ بعد اسرائیلی فوج کو متعدد شعبوں میں ایران کی صلاحیتوں کی تیز اور حیران کن بحالی کا سامنا ہے، جن میں بیلسٹک میزائلوں کا خطرہ بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج اس سے قبل بھی ایران کی تیز رفتار بحالی کے باعث دو مرتبہ حیران ہوچکی ہے۔ اکتوبر 2024 میں ایران کے 20 اہم میزائل اور فوجی صنعتی اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایران کی مستقبل کی میزائل پیداوار کو ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے کے لیے پیچھے دھکیل دیا ہے۔
اسی طرح جون 2025 میں تقریباً 100 میزائل اور فوجی صنعتی اہداف پر حملوں کے بعد اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایران کی میزائل پیداوار کو کئی برس پیچھے دھکیلنے کا مؤثر طریقہ تلاش کرلیا ہے، تاہم ایران ایک بار پھر تیزی سے میزائلوں کی پیداوار بحال کرنے کے راستے تلاش کرنے میں کامیاب ہوگیا۔
جروزالم پوسٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے اعلیٰ حکام اب تسلیم کرتے ہیں کہ ایران نے اپنی میزائل صلاحیت اور دیگر اہم فوجی خطرات کی بحالی پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے نئے اور غیر روایتی طریقے تلاش کرلیے ہیں۔
اسرائیلی اخبار نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران ماہانہ 100 سے 300 میزائلوں کی پیداوار دوبارہ شروع کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو وہ 2027 کے اوائل یا وسط تک اپنے میزائل ذخیرے کو جون 2025 کی سطح تک پہنچا سکتا ہے اور 2028 تک ایک مؤثر اور سنجیدہ مزاحمتی خطرے میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ