13 اگست 2026 - 16:04
اسرائیلی وزیرِ جنگ: حزب اللہ کو غیر مسلح کیے بغیر جنوبی لبنان سے انخلا نہیں ہوگا

اسرائیلی وزیرِ جنگ یسرائیل کاٹز نے دھمکی آمیز انداز میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج حزب اللہ کو غیر مسلح کیے جانے تک جنوبی لبنان میں قائم سکیورٹی زون سے پیچھے نہیں ہٹے گی، جبکہ اس نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج اس علاقے کے تقریباً 700 مربع کلومیٹر حصے پر کنٹرول رکھتی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی وزیرِ جنگ یسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں قائم سکیورٹی زون سے اس وقت تک انخلا نہیں کرے گی جب تک حزب اللہ کے ہتھیار ختم نہیں کیے جاتے۔

کاٹز نے مقبوضہ مغربی کنارے میں صہیونی بستی «گنیم» کی دوبارہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ روز جنوبی لبنان میں قائم سکیورٹی زون کا دورہ کیا اور وہاں تعینات اسرائیلی فوج کے کمانڈروں اور اہلکاروں سے ملاقات کی۔

اسرائیلی وزیرِ جنگ نے دعویٰ کیا کہ دورے کے دوران انہوں نے شقیف قلعہ کا بھی مشاہدہ کیا، جسے ان کے بقول اسرائیلی فوج کی گولانی بریگیڈ نے 44 سال بعد دوبارہ اپنے قبضے میں لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قلعے پر اسرائیلی حکومت اور گولانی بریگیڈ کے پرچم بھی لہرائے گئے ہیں۔

کاٹز نے حزب اللہ سے منسوب سرنگوں کا بھی دورہ کیا اور انہیں تباہ کن اور خوفناک قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان سرنگوں کو چند روز قبل 700 ٹن دھماکا خیز مواد استعمال کرکے تباہ کیا گیا۔ ان کے مطابق اب پہاڑ کے دامن میں ان سرنگوں کے صرف مدھم آثار باقی رہ گئے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ سرنگیں اسرائیلی بستیوں اور شمالی مقبوضہ فلسطین کے الجلیل علاقے کے لیے خطرہ تھیں۔ کاٹز نے مزید کہا کہ لبنان کی سرحد کے قریب واقع درجنوں دیہات، جنہیں انہوں نے حزب اللہ کے اڈے قرار دیا، تباہ کرکے ملبے کا ڈھیر بنا دیے گئے ہیں۔

اسرائیلی وزیرِ جنگ نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے اس خطرے کو مستقل طور پر ختم کر دیا ہے اور سکیورٹی زون بحیرۂ روم سے مشرق میں شقیف اور جبل الشیخ کے دامن تک پھیلا ہوا ہے۔

کاٹز کے مطابق یہ علاقہ اس وقت خالی ہے، تاہم اسرائیلی فوجی وہاں تعینات ہیں اور زمینی و زیرِ زمین بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ طویل عرصے تک جنوبی لبنان میں موجود رہنے اور فوجیوں و اسرائیلی بستیوں کے تحفظ کے لیے تیار رہے، جب تک حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا مقصد حاصل نہیں ہو جاتا۔

کاٹز نے اپنے خطاب کے اختتام پر لبنان اور مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال کو الگ قرار دیتے ہوئے مغربی کنارے کے لیے صہیونی اصطلاح «یہودا و سامرہ» استعمال کی اور دعویٰ کیا کہ یہ علاقہ اسرائیل کی سرزمین ہے۔ انہوں نے مغربی کنارے میں قائم صہیونی بستیوں کو آباؤ اجداد اور انبیاء کی سرزمین کی جانب واپسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت ان علاقوں میں مستقل طور پر موجود رہے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha