اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں آبنائے ہرمز کی صورت حال اور اس اہم آبی گزرگاہ پر ایران کے کنٹرول کے حوالے سے خلیج فارس کے عرب ممالک کے ردعمل کا جائزہ لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، خلیج فارس کے توانائی پیدا کرنے والے ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول مستقل ہوسکتا ہے۔ اگرچہ اس صورت حال سے تیل و گیس کی برآمدات اور عالمی توانائی کی فراہمی غیر معینہ مدت تک متاثر ہوسکتی ہے، تاہم ان ممالک کا خیال ہے کہ دوبارہ جنگ کی طرف جانا اس سے بھی زیادہ نقصان دہ ہوگا۔
امریکی اخبار کے مطابق، خلیجی ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے زیرِ غور موجودہ معاہدے کو ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے پر ترجیح دیتے ہیں۔
برمنگھم یونیورسٹی میں خلیجی سلامتی کے امور کے محقق عمر کریم کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں خلیج فارس کے عرب ممالک آبنائے ہرمز کی مکمل سلامتی اور کھلے رہنے کی ضمانت نہیں دے سکتے اور نہ ہی اب وہ نقل و حمل یا تجارت کے لیے اس پر مکمل انحصار کرسکتے ہیں۔ ان کے بقول، اس لیے فی الحال ان کے پاس ایران کے بعض مطالبات تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔
امریکی حملوں کے بعد ایران کے خلاف کارروائیوں اور آبنائے ہرمز کی بندش و آمدورفت محدود ہونے کے نتیجے میں اجناس سے متعلق اعداد و شمار فراہم کرنے والی کمپنی کپلر کے مطابق، گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز سے خام تیل کی برآمد تقریباً 22 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جبکہ ایک ماہ قبل یہ مقدار تقریباً 85 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔ اس تنازع سے قبل روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل اور پٹرولیم مصنوعات اس آبی گزرگاہ سے گزرتی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق، جنگ شروع ہونے کے وقت کے مقابلے میں عالمی سطح پر تیل کے ذخائر میں بھی کمی آئی ہے اور گزشتہ چھ ماہ کے دوران ان میں 40 کروڑ بیرل سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز کہا کہ یہ تزویراتی آبی گزرگاہ اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکا ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات، بشمول ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی، روک نہیں دیتا اور اس کے ازالے کے لیے اقدامات نہیں کرتا۔
امریکی حکمت عملی سے خلیجی ممالک مایوس
وال اسٹریٹ جرنل نے مزید لکھا ہے کہ خلیجی ممالک کے حکام اس امکان کو قبول کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ایران کے ساتھ ہونے والے کسی بھی معاہدے کے باوجود اس کا میزائل پروگرام اور خطے میں مزاحمتی گروہوں کی حمایت برقرار رہے گی۔
ان ممالک کے حکام امریکا کی جانب سے جنگ کے طول پکڑنے کے باوجود واضح حکمت عملی نہ ہونے پر شدید مایوسی کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق، موجودہ صورت حال ان کی قومی سلامتی اور معیشت دونوں کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔
خلیجی ممالک کے حکام کا کہنا ہے کہ اس تنازع کے دوران ان کے ایرانی ہم منصبوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے کشیدگی میں اضافے سے متعلق اپنی دھمکیوں پر عمل کیا تو ایران خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے گا۔ علاقائی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے توانائی کے مراکز اور سمندری پانی کو میٹھا کرنے والے پلانٹس حملوں کے لیے غیر محفوظ ہیں۔
امریکا میں تنازعات کی نگرانی کرنے والے ایک ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق، 28 فروری سے 30 جولائی کے درمیان ایران اور عراق میں موجود مزاحمتی گروہوں نے خلیج فارس کے چھ عرب ممالک میں شہری بنیادی ڈھانچے کو کم از کم 172 حملوں میں نشانہ بنایا۔ ان میں تقریباً نصف حملے توانائی کے مراکز کے خلاف تھے۔
اٹلانٹک کونسل کے گلوبل انرجی سینٹر کی سینئر رکن ایلین والڈ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے قلیل مدتی معاہدہ خلیج فارس سے توانائی کی ترسیل میں سہولت فراہم کرسکتا ہے، تاہم اس سے خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا۔
آپ کا تبصرہ