اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حسن فضل اللہ نے غبیری میں حزب اللہ کے دو شہداء کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی دیہات میں اسرائیلی فوج کی جانب سے مسماری اور زمین ہموار کرنے کی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے معاہدے نے اس کی قبضہ گیری کو عملاً جواز فراہم کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک لبنانی حکومت نے نہ تو ان کارروائیوں کو رکوانے کے لیے کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا ہے اور نہ ہی امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں اس مطالبے کو مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کے بقول جنوبی لبنان کی موجودہ صورتحال وہاں کے عوام کے خلاف ایک "جرم" ہے۔
حسن فضل اللہ نے زور دے کر کہا کہ اسرائیلی خطرات کے مقابلے میں لبنان کے دفاع کے لیے مزاحمت ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد بھی حزب اللہ کئی ماہ تک اپنے وعدوں کی پابند رہی اور اس دوران ملک کے دفاع کی ذمہ داری حکومت کو سونپنے کی کوشش کی، تاہم حکومت لبنان کی خودمختاری، سرزمین اور شہریوں کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے تو حزب اللہ قومی دفاعی حکمت عملی پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
لبنانی رکن پارلیمان نے کہا کہ حزب اللہ قانون اور ریاستی اداروں کے دائرے میں رہتے ہوئے قومی امور میں شراکت کی خواہاں ہے۔ انہوں نے جنوبی لبنان کے مکینوں کی واپسی، مقبوضہ علاقوں کی آزادی، جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو، قیدیوں کی رہائی اور لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کو مزاحمت کے بنیادی مطالبات قرار دیا۔
تقریب کے اختتام پر حسن فضل اللہ نے کہا کہ حزب اللہ حکومتی پالیسیوں کی سیاسی مخالفت جاری رکھے گی، تاہم قومی اتحاد کے تحفظ اور داخلی کشیدگی سے گریز کے ساتھ ساتھ مزاحمت، عوام کے حقوق اور لبنان کے قومی مفادات کے دفاع کا سلسلہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ