گرفتار کیے جانے والے تینوں اطالوی شہری ایمرجنسی نامی اطالوی فلاحی ادارے کے اہلکار ہیں جو صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ میں اپنے ادارے کے زیر انتظام چلنے والے خیراتی اسپتال میں کام کرتے تھے۔ایسوسی ایٹڈ پریس نے ہلمند کے گورنر کے ترجمان داؤد احمدی کے حوالے سے بتایا ہے کہ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ ہلمند کے گورنر کو ہسپتال کے دورے کے موقع پر قتل کیا جا سکتا ہے۔صوبہ ہلمند کے گورنرگلاب منگل کا کہنا ہے کہ ادارے کے ہسپتال سے خودکش حملوں میں استعمال ہونے والی جیکٹیں اور ہتھیار بھی برآمد ہوئے ہیں جو ان کے بقول غیرملکی مدد سے وہاں لائے گئے تھے۔گورنر نے ایک اخباری کانفرنس میں انکشاف کیا ہے کہ گرفتار ہونے والے ایک اطالوی شہری نے انہیں قتل کرنے کے لیے پانچ لاکھ ڈالر وصول کیے تھے۔ہلمند کے گورنر کے ترجمان داؤد احمدی کا کہنا ہے کہ افغان حکام نے چھ افغان شہریوں کو بھی گرفتار کیا ہے جو ماضی میں اسی ہسپتال میں کام کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ گرفتار اطالوی اور افغان شہریوں نے ملکر لشکر گاہ میں حملے کرنے اور بعد میں گورنر کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہسپتال پر چھاپے کی کارروائی کی اسے جو ویڈیو حاصل ہوئی ہے اس میں افغان پولیس کے ساتھ ساتھ برطانوی فوجی بھی نظر آرہے ہیں۔اٹلی کے وزیر خارجہ فرانکو فراٹینی نے کہا ہے کہ وہ گرفتاریوں کی وجوہات کی تصدیق کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
/110