ڈان مریدورکےبیانات فلسطینی عوام کی استقامت کےسامنےصہیونی ریاست کی ناکامی اورفلسطینیوں کی زبردست استقامت و پائداری کے نتیجے میں سامنےآیاہے۔فلسطینیوں کی کامیابیاں مزیدآشکارہونےکی وجہ سے صہیونی ریاست اپنی عاجزی وناتوانی کااعتراف کرنے پر مجبورہوئی ہے۔اس سلسلے میں سابق صہیونی وزیراعظم ایھود باراک نےبھی کچہ دنوں پہلے تاکید کےساتھ کہاتھا کہ صہیونی ریاست کو اپناوجود باقی رکھنے کےلئے غرب اردن اور مشرقی بیت المقدس کےاہم علاقوں سےباہر نکلناپڑےگا۔صہیونی ریاست کی عاجزی ایسےعالم میں سامنےآئی ہے کہ علاقے کےعوام بالخصوص فلسطین ولبنان کےعوام کےسامنے اس ریاست کی پے درپے ناکامی نےاس غاصب ریاست کوبعض مقبوضہ علاقوں سےپسپائی اختیارکرنےپرمجبور کردیاہے ۔ سن دوہزار میں جنوبی لبنان کےمقبوضہ علاقوں اور سن دوہزارپانچ میں غزہ کےعلاقے سےصہیونی ریاست کی پسپائی سےاس حقیقت کی تائید ہوتی ہے۔ایسےحالات میں جب صہیونی ریاست اپنی پالیسیوں کوآگےبڑھانے میں ناکام ہوگئی ہےاپنی ظاہری پوزیشن بچانےکی کوشش کرتےہوئےیہ ظاہر کرناچاہتی ہےکہ وہ اپنی پالیسیوں کوتبدیل کرکے امن چاہتی ہے اور اس طرح وہ رائےعامہ کی توجہ اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کی جانب سےہٹاناچاہتی ہے۔بعض صہیونی حکام کی جانب سے بظاہر امن پسندی کی بات اور بعض کی جانب سے اظہارعاجزی ولاچاری کےساتھ ہی فلسطینی عوام پرمظالم میں شدت اور توسیع پسندی سےپتہ چلتاہے کہ اس کےقول فعل میں زبردست تضاد ہےجواس کی مشکوک شبیہ کونمایاں کرتاہے۔ان حالات میں استقامت جاری رہنے سے صہیونی ریاست پرمزید دباؤ پڑےگا۔
........
/110