بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کتاب "نظام کی تبدیلی: ڈونلڈ ٹرمپ کی بادشاہانہ صدارت اندر سے" (Regime Change: Inside the Imperial Presidency of Donald Trump) ایک انکشافی کام ہے جو میگی ہیبرمین (Maggie Haberman) اور جوناتھن سوان (Jonathan Swan)، نیویارک ٹائمز کے نامور صحافیوں کی 1000 سے زائد انٹرویوز اور تین سالہ روداد نگاری کا نتیجہ ہے۔ یہ کتاب جو ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے صرف 17 ماہ بعد شائع ہوئی اور اسی پہلے دن ایک لاکھ 50 ہزار نسخے فروخت کرنے کا غیرمعمولی ریکارڈ قائم کیا، وائٹ ہاؤس میں اقتدار کے ڈھانچے کی تبدیلی اور اس کی ایک "شہنشاہی صدارت (Imperial Presidency)" اور لامحدودیت اور مطلق العنانیت کی طرف حرکت کی چونکا دینے والی اور بےپردہ تصویر پیش کرتی ہے۔
حصۂ ششم:
ٹرمپ کی کی صدارت کی پہلی مدت کے دوران، امریکی حملے کے نتیجے میں جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ان امریکی حکام ایران کی طرف سے ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کی سابقہ انتظامیہ کے بعض ارکان کے قتل کے منصوبوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ مصنفین کے مطابق، ٹرمپ کا اسلامی جمہوریہ کے خلاف غصہ اور عدم اعتماد 2024 کی انتخابی مہم کے دوران ـ جب امریکی حکام نے کہا کہ ایران نے اس کے قتل کی منصوبہبندی کی تھی، ـ شدید تر ہو گیا۔
کتاب کے مصنفین لکھتے ہیں کہ ٹرمپ کے بعض قریبی ساتھی اس معاملے کو 'کم اہم' مسئلے کے طور پر پیش کرنے کے ترجیح دیتے تھے۔ لیکن اسلامی جمہوریہ کے بارے میں اس کا جذبہ بہت سے دوسرے معاملات کی نسبت "زیادہ سخت اور کم سودےبازانہ" تھا۔
اسی تناظر میں، کتاب پاکستانی شہری آصف مرچنٹ کی گرفتاری کا ذکر کرتی ہے جس پر پاسداران انقلاب سے تعلق کا الزام تھا؛ یہ گرفتاری تقریباً اسی وقت خبروں میں آئی جب پنسلوانیا کے بٹلر میں ٹرمپ پر ناکام قاتلانہ حملہ ہؤا۔ (3) امریکی حکام نے کہا تھا کہ بٹلر حملہ آور کا ایران سے کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن کتاب کے مطابق، ان دو واقعات کی ہم وقتی ٹرمپ اور اس کے قریبی حلقے کے ذہن میں ایک دوسرے سے جڑ گئی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اس کے کینے کو شدید تر کر گئی۔
دوسری مدت کے لئے اقتدار میں واپس آنے کے بعد، امریکی فوج کی صلاحیتوں پر ٹرمپ کا اعتماد بڑھ گیا تھا۔ وہ خاص طور پر وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو 3 جنوری کو ان کی رہائش گاہ سے اغوا کرنے کے لئے ـ بقول اس کے ـ شاندار کمانڈو کاروائی سے زیادہ جری ہو گیا۔
پچھلے سال کے حملوں پر ایران کے محدود ردعمل نے بھی اس کے ذہن میں اس تاثر کو تقویت دیتی تھی۔
کابینہ کے اندر ہیگستھ، ایران کے خلاف فوجی مہم کا سب سے بڑا حامی تھا۔
روبیو نے اپنے ساتھیوں کو واضح کرکے دکھایا کہ 'وہ بہت زیادہ تذبذب اور تردد کا شکار ہے۔' روبیو کو یقین نہیں تھا کہ ایرانی کسی 'مذاکرہ شدہ معاہدے' (Negotiated agreement) پر راضی ہوں گے، لیکن اس کی ترجیح پورے پیمانے پر جنگ شروع کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم جاری رکھنا تھی۔ تاہم، روبیو نے ٹرمپ کو اس آپریشن سے روکنے کی کوشش نہیں کی اور جنگ شروع ہونے کے بعد، حکومت کا مؤقف پوری طرح سے آگے بڑھایا۔ (4)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3۔ اس حملے کے بارے میں شکوک و شبہات بہت ہیں اور ٹرمپ کے حریف سیاسی جماعت کے راہنماؤں نے اس کو عوامی توجہ حاصل کرنے کے لئے ٹرمپ کی سیاسی اداکاری کا حصہ قرار دیا تھا ورنہ کان کو لگنے والی گولی س کو بھی لگ سکتی تھی، لیکن پروگرام یہ نہیں تھا۔
4۔ یہاں تک کہ اس کو ایک مذہبی اور تہذیبی جنگ کے طور پر پیش کیا اور صلیبی مسیحیت کی نمائندکی بھی کی؛ گوکہ اس کی فلسفیانہ جنگجوئی پر مبنی تقاریر سے ان کی شدید کم علمی اور حقائق سے ناواقفیت عیان رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیشکش: سید محمد حسین راجی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ