17 جون 2026 - 18:10
سروے رپورٹ: امریکیوں کی بڑی تعداد اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں شکوک کا شکار

سروے کے نتائج کے مطابق 38 فیصد امریکیوں نے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ امریکہ اگلے 250 سال تک ایک خودمختار ملک کے طور پر موجود رہے گا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکہ کے 250ویں یومِ آزادی سے قبل ہونے والے ایک تازہ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی عوام کی قابلِ ذکر تعداد کو اپنے ملک کے طویل مدتی مستقبل اور جمہوری نظام کے استحکام کے حوالے سے سنجیدہ خدشات لاحق ہیں۔

رائٹرز اور ایپسوس کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق تقریباً ہر پانچ میں سے دو امریکیوں کا خیال ہے کہ امریکہ آئندہ 250 برس تک ایک آزاد اور متحد ملک کے طور پر برقرار نہیں رہ سکے گا۔

38 فیصد امریکی ملک کے مستقبل سے مایوس

سروے کے نتائج کے مطابق 38 فیصد امریکیوں نے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ امریکہ اگلے 250 سال تک ایک خودمختار ملک کے طور پر موجود رہے گا۔

اعداد و شمار کے مطابق:

40 فیصد ڈیموکریٹک حامیوں نے اس خدشے کا اظہار کیا۔

26 فیصد ریپبلکن ووٹرز بھی اسی رائے کے حامل ہیں۔

جبکہ 62 فیصد افراد اب بھی امریکہ کے مستقبل کے بارے میں پُرامید ہیں۔

جمہوریت کے زوال کا خوف

سروے میں شامل تقریباً دو تہائی افراد کا کہنا ہے کہ امریکہ میں جمہوریت خطرے سے دوچار ہے۔

اس حوالے سے:

85 فیصد ڈیموکریٹس نے جمہوری نظام کے لیے خطرات پر تشویش ظاہر کی۔

50 فیصد ریپبلکنز بھی اس رائے سے متفق نظر آئے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال اگست میں 57 فیصد افراد جمہوریت کو خطرے میں سمجھتے تھے، لیکن اب یہ شرح مزید بڑھ چکی ہے۔

سیاسی تشدد میں اضافے کا خدشہ

سروے میں شریک 77 فیصد افراد نے کہا کہ آئندہ پانچ برسوں کے دوران امریکہ میں سیاسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

یہ اعداد و شمار امریکی معاشرے میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم اور کشیدگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

"دنیا کا عظیم ترین ملک" سمجھنے والوں کی تعداد کم ہوگئی

سروے کے مطابق صرف 30 فیصد امریکی اب اپنے ملک کو دنیا کا بہترین یا عظیم ترین ملک سمجھتے ہیں، جبکہ 2017 میں یہ شرح 38 فیصد تھی۔

خاص طور پر ڈیموکریٹک ووٹرز میں یہ رجحان نمایاں طور پر کم ہوا ہے:

2017 میں 26 فیصد ڈیموکریٹس امریکہ کو دنیا کا عظیم ترین ملک سمجھتے تھے۔

اب یہ شرح کم ہو کر صرف 11 فیصد رہ گئی ہے۔

دوسری جانب ریپبلکن ووٹرز کی اکثریت اب بھی اسی موقف پر قائم ہے۔

یومِ آزادی بھی سیاسی تنازع بن گیا

سروے میں شامل متعدد امریکیوں کا خیال ہے کہ امریکہ کے 250ویں یومِ آزادی کی تقریبات حد سے زیادہ سیاسی رنگ اختیار کر چکی ہیں۔

تقریباً:

ایک چوتھائی ڈیموکریٹس

اور نصف ریپبلکنز

کا کہنا ہے کہ قومی تقریبات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ پر تنقید

اسی تناظر میں امریکی جریدے دی اٹلانٹک نے اپنی ایک رپورٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکہ کے 250ویں یومِ آزادی کی تقریبات کو قومی اتحاد کی علامت بنانے کے بجائے اپنی سیاسی تشہیر کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل امریکہ کے بانی نظریات اور آزادی کے تاریخی فلسفے سے مطابقت نہیں رکھتا، جبکہ ٹرمپ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ وہ ملک کی تعمیرِ نو اور قومی شناخت کے احیاء کی کوشش کر رہے ہیں۔

گہری سیاسی تقسیم کی عکاسی

سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی معاشرہ اس وقت سیاسی، سماجی اور نظریاتی سطح پر شدید تقسیم کا شکار ہے۔ ملک کے مستقبل، جمہوریت کے استحکام، قومی شناخت اور سیاسی قیادت کے بارے میں مختلف آراء اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امریکہ اپنے 250ویں یومِ آزادی کے موقع پر داخلی چیلنجز کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha