اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، تہران کے میئر علیرضا زاکانی نے اعلان کیا ہے کہ رہبرِ شہیدِ انقلاب کی تشییع کے سلسلے میں مختلف مراحل کی منصوبہ بندی مکمل کی جا رہی ہے، جبکہ تہران میں منعقد ہونے والی مرکزی تشییعی تقریب میں 15 سے 20 ملین افراد کی شرکت متوقع ہے۔
زاکانی نے بدھ کے روز ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 4 اور 5 جولائی کو تہران کی مصلیٰ میں الوداعی مراسم منعقد ہوں گے، جبکہ 6 جولائی کو تہران میں مرکزی تشییع کا انعقاد کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ 7 جولائی کو کو قم میں، 8 جولائی کو عراق میں اور 9 جولائی کو مشہد میں بھی خصوصی تشییعی تقریبات منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
تہران میں مجوزہ تشییعی راستہ
تہران کے میئر کے مطابق تشییع کے لیے مشرقی سے مغربی محور کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ابتدائی منصوبے کے تحت جلوس خیابان دماوند سے شروع ہو کر خیابان انقلاب اور خیابان آزادی سے گزرتے ہوئے آگے بڑھے گا، تاہم حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ خیابان دماوند، انقلاب، آزادی اور لشکری روڈ پر مشتمل راستہ اہم آپشنز میں شامل ہے، لیکن حتمی انتخاب اس بنیاد پر ہوگا کہ کون سا راستہ کروڑوں افراد کی شرکت کو بہتر انداز میں سنبھال سکتا ہے۔
15 سے 20 ملین افراد کی شرکت کا امکان
زاکانی نے کہا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس تاریخی مراسم میں 15 سے 20 ملین افراد شرکت کر سکتے ہیں، جو ملک کی تاریخ میں کسی بھی تشییعی تقریب میں شرکت کرنے والی سب سے بڑی تعداد ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اتنے بڑے اجتماع کے انتظامات کے لیے تمام متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں رہائش، ٹرانسپورٹ، شہری سہولیات، ثقافتی خدمات اور ہجوم کے انتظام کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
عوامی شراکت پر زور
میئر تہران نے کہا کہ اس عظیم اجتماع کی کامیابی میں عوامی تعاون بنیادی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تہران کے شہری اربعین کے ایام میں کربلا کے میزبانوں کی طرح ملک بھر سے آنے والے زائرین کی خدمت میں حصہ لیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ زائرین اور تہران کے شہریوں کے درمیان رابطے اور تعاون کے لیے ایک خصوصی نظام بھی تیار کیا جا رہا ہے تاکہ آنے والے افراد کو رہائش اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی میں آسانی ہو۔
زاکانی کے مطابق، شہری انتظامیہ اور دیگر سرکاری ادارے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہے ہیں تاکہ تہران اس عظیم اور تاریخی تقریب کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہو سکے۔
آپ کا تبصرہ