بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ صہیونی اخبار "اسرائیل ہیوم" نے ابتدائی مفاہمت نامے پر دستخط کے بعد لکھا:
- "اگر یہ معاہدہ واقعی دستخط ہو جاتا ہے، تو اسرائیل خود کو ایک نئی حقیقت کا سامنا کرتا ہؤا پائے گا جو اس پر مسلط کی گئی ہے، اور اس بار، وہ اوزار جو اس مفاہمت نامے کی تبدیلی یا منسوخ کرانے کے لئے اس کے پاس تھے، اس بارے اس کی دسترس سے باہر ہیں۔
- سنہ 2024 کی انتخابی مہم کے آغاز میں ٹرمپ اور نیتنن یاہو کے بیانات کا اگر تہران - واشنگٹن معاہدے کی تفصیلات سے موازنہ کرایا جائے تو نتیجہ نکلتا ہے کہ: "ایران کے خلاف ہماری (امریکی-صہیونی) مسلط کردہ جنگ یکسر ناکام ہوگئی ہے اور درحقیقت، یہ جنگ ایران کے نظام کو ختم کرنے کے قریب لانے یا اسے نمایاں طور پر کمزور کرنے کے بجائے، تہران کے نظام کے معاشی، سیاسی اور حتیٰ کہ فوجی طور پر مضبوطی پر اختتام پذیر ہوئی۔"
- آج جنگ کے آغاز کے برعکس، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی دراڑ پائی جاتی ہے؛ اس جنگ نے اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ایران کے حوالے سے، اور خاص طور پر معاہدے تک پہنچنے کی امریکی خواہش نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اس [مبینہ] گہری دراڑ کو بے نقاب کر دیا۔ اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ اگر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کی کوشش میں ہے، تو یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ امریکہ کا آنے والا صدر اس کے بر خلاف، ایران کے خلاف اور اسرائیل کے حق میں فوجی مہم جوئی کا فیصلہ کرے گا۔
- جب اسرائیل کے پاس کارروائی (اور ایران کے حکومتی نظام کے خاتمے کے لئے جنگ مسلط کرنے) کا تاریخی موقع تھا، تو وہ المناک شکست سے دوچار ہؤا۔ توقع یہ ہے کہ مستقبل میں، امریکہ کو ایران کے معاملے میں، اپنے حق میں متحرک کرنے یا جوہری معاملے پر تشکیل پانے والے معاہدے کو متاثر کرنے کی اسرائیلی صلاحیت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
- یقینا معاہدے میں مراعاتوں کا تبادلہ ہؤا ہے: توقع ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے بدلے ـ جو جنگ سے پہلے کھلا تھا، ـ تہران کو اہم معاشی مراعات حاصل ہوں گی، جبکہ اس نے کوئی بھی اہم اسٹراٹیجک اثاثہ نہیں کھویا ہے۔ یہ پہلے سے واضح ہے کہ میزائل نظام، مشرق وسطیٰ میں ایران کے حلیفوں کی امداد، اور یورینیم کی افزودگی کا حق، ان مراعاتوں کا حصہ نہیں ہیں جو ایران نے امریکہ کو دی ہیں۔
- ظاہر ہے کہ خلیج فارس کے عرب ممالک، اسرائیل کی مایوسی کے باوجود، نہ صرف تہران سے دوری اختیار نہیں کریں گے، بلکہ اس کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھیں گے اور شاید حتیٰ ایران کے ساتھ تعلقات کو گہرا بھی کر دیں۔ یہی بات متحدہ عرب امارات کے بارے میں بھی درست ہے۔ چنانچہ اسرائیل کی یہ امید کہ اس مہم کی متوقعہ کامیابیوں کی بدولت ابراہیم معاہدوں کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، تیزی سے دم توڑ رہی ہے۔

- اسرائیل کے سابق سیکورٹی اہل کار ڈینی سٹرینووچ، نے اس بارے میں لکھا:
- خلاصہ یہ کہ تہران نے کم رعایتیں دیں اور زیادہ رعایتیں حاصل کیں۔ دوسری طرف، اسرائیل نے خود کو فیصلہ سازی کے دائرے سے باہر پایا، بغیر اس کے کہ وہ اس عمل پر کوئی حقیقی اثر و رسوخ رکھتا ہو۔
- ابھرتے ہوئے نئے معاہدے کے بعد اسرائیل کے لئے سب سے مشکل مسئلہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ فوجی محاذ آرائی کی طرف لوٹنا نہیں چاہتا اور ایسا لگتا ہے کہ امریکی سیاسی نظام میں اس موقف پر وسیع اتفاق رائے موجود ہے۔ یہاں تک کہ واشنگٹن میں اسرائیل کے ممتاز حامی، جن کی قیادت سینیٹر لنڈسے گراہم کر رہا ہے، عمومی طور پر صدر پر تنقید کرنے یا اس کی پالیسیوں کو چیلنج کرنے میں بہت احتیاط برت رہے ہیں۔
- اوباما انتظامیہ کے برعکس، ـ جب نیتن یاہو کانگریس اور امریکی عوام کی حمایت حاصل کرکے وائٹ ہاؤس کو بائی پاس کر سکتا تھا ـ اس بار یہ اختیارات تقریباً ناپید ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ