اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سی آئی ڈی پولیس سندھ نے کراچی میں جیل کو دھماکے سے اڑانے کا منصوبہ ناکام بنادیا، نشتر پارک بم دھماکا کیس اور علامہ حسن ترابی مرحوم پر قاتلانہ حملے میں ملوث انتہائی خطرناک دہشت گرد اور کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کراچی کے کمانڈر ضیاء الدین محسود عرف خان محمد عرف صدیق عرف امیر افضل کو گرفتار کرلیا۔ ملزم سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کرلیا گیا۔ ملزم کا نام سی آئی ڈی پولیس کی ریڈبک میں شامل ہے اور اس کا تعلق قاری عابد محسود گروپ سے بتایا جاتا ہے۔
پولیس کے مطابق اعلیٰ حکام کے ٹاسک پر ایس ایس پی، سی آئی ڈی، ایکسٹریم ازم سیل عمر شاہد حامد نے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جس نے پیر کو تھانہ شرافی گوٹھ کے علاقے ریڑھی گوٹھ قبرستان کے پاس چھاپہ مارکر ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ سال 2006ء جولائی کے مہینے میں نشتر پارک میں ہونے والے بم دھماکے میں شامل تھا۔ اس کے علاوہ 2008ء میں ملزم نے رحیم اللہ عرف علی حسن اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ایک ٹرانسپورٹر اور نیٹو کو تیل سپلائی کرنے والے تاجر الحاج شوکت آفریدی کو بوٹ بیسن سے اغواء کیا تھا۔
لشکر جھنگوی کراچی کا کمانڈر ضیاء الدین محسو د عرف خان محمد عرف صدیق عرف امیر افضل, منیر چانڈیو و رضوان مقدم کو گرفتار کرلیا۔ ملزم سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کرلیا گیا۔ ضیاء الدین محسو د کا نام سی آئی ڈی پولیس کی ریڈبک میں شامل ہے اور اس کا تعلق قاری عابد محسود گروپ سے بتایا جاتا ہے۔
اعلیٰ حکام کے ٹاسک پر ایس ایس پی، سی آئی ڈی، ایکسٹریم ازم سیل عمر شاہد حامد نے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جس نے پیر کو تھانہ شرافی گوٹھ کے علاقے ریڑھی گوٹھ قبرستان کے پاس چھاپہ مارکر ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ سال 2006ء جولائی کے مہینے میں نشتر پارک میں ہونے والے بم دھماکے میں شامل تھا۔ اس کے علاوہ 2008ء میں ملزم نے رحیم اللہ عرف علی حسن اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ایک ٹرانسپورٹر اور نیٹو کو تیل سپلائی کرنے والے تاجر الحاج شوکت آفریدی کو بوٹ بیسن سے اغواء کیا تھا۔ .......
152/