12 جون 2026 - 21:03
ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں اور حملوں کا اصل سبب کیا تھا؛ اپاچی ہیلی کاپٹر کی تباہی یا کچھ اور؟

گذشتہ راتوں کے دوران، ایران پر ٹرمپ کے حملوں کی نوعیت، اس کی مسلسل دھمکیوں اور کل رات اس کی پسپائی کے اعلان کے تجزیئے میں اس نکتے پر توجہ دینی چاہئے کہ ٹرمپ کے حملے کا اصل بہانہ ایرانی ڈرون کے ذریعے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کی تباہی، تھا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛

گذشتہ راتوں کے دوران، ایران پر ٹرمپ کے حملوں کی نوعیت، اس کی مسلسل دھمکیوں اور کل رات اس کی پسپائی کے اعلان کے تجزیئے میں اس نکتے پر توجہ دینی چاہئے کہ ٹرمپ کے حملے کا اصل بہانہ ایرانی ڈرون کے ذریعے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کی تباہی، تھا:

• پچھلے 48 گھنٹوں کے واقعات کا جائزہ بتاتا ہے کہ ٹرمپ کے بکھرے ہوئے، انتقامی لب و لہجے سے بھرپور ٹوئیٹس سلسلہ ـ یہاں تک کہ امریکی وزیر جنگ ہیگستھ کا موقف، ـ اردن میں امریکی ایئر بیس "موفق السلطی" میں ایران کی فوجی کاروائی کے بعد سامنے آیا۔

• سپاہ پاسداران کی ایرواسپیس فورس کے بیان میں کہا گیا کہ امریکہ امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر، اردن میں واقع ایک امریکی ایئربیس 'موفق السلطی' کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس میں ایک امریکی میزائل دفاعی نظام بھی منہدم ہو گیا۔

• سپاہ پاسداران نے اپنے اعلان میں کہا کہ موفق السلطی میں ایف 15، ایف 16 اور ایف 35 کے ہینگرز سمیت چار اہم ٹھکانوں کو کامیابی سے تباہ کیا گیا۔

• اڈے کی کچھ سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہؤا کہ یہ حملے بہت کامیاب رہے ہیں۔ چنانچہ

• "موفق السلطی" پر ایرانی حملے پر ٹرمپ اور ہیگستھ کی پریشانی معمول سے کہیں بڑھ کر تھی اور اس پریشانی کو امریکی ہیلی کاپٹر کی تباہی کی خبر سے چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔

- کہ ایرانی ڈرون کے ذریعے جدیدترین جارح امریکی ہیلی کاپٹر کی تباہی اگرچہ کافی اہم خبر تھی لیکن بڑے شیطان کے چیلوں کی پریشان کی اصل وجہ پھر بھی موفق السلطی میں ڈھونڈنا پڑتی ہے، کیونکہ

• لگتا ہے کہ امریکہ نے "موفق السلطی" پر فضائیہ کے حملوں میں اپنے F-15، F-16 اور F-35 لڑاکا طیاروں کی اچھی خاصی تعداد تعداد کھو دی ہے۔

• تباہ شدہ طیاروں اور ریڈاروں کی تعداد شاید بہت زیادہ نہ ہو، اور تقریباً 10 سے 20 کے درمیان ہو، لیکن اس نے مستقبل قریب میں ایران "اور شاید ترکیہ" پر شیطان اکبر (امریکہ) کے حملوں کے منصوبے کو درہم برہم کر دیا ہے۔ البتہ

• اس میں شک نہیں ہے کہ گذشتہ 36 برسوں سے دنیا پر یکطرفہ حکمرانی کرنے والے امریکہ کے لئے یہ سب بہت مہنگا پڑ رہا ہے، کیونکہ اس سے پہلے دنیا کے کسی بھی ملک کو امریکی تنصیبات پر حملہ نہیں کیا تھا، اس کی ساکھ پامال ہوچکی ہے، اس کا عالمی اعتبار اڑ کر ہوا ہو گیا ہے اور ایرانیوں نے امریکی تنصیبات پر حملوں کو شام کی چہل قدمی کی حد تک، معمول بنایا ہؤا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha