اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی جریدے "دی اٹلانٹک" نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شدید دباؤ، تھکن اور بے چینی کا شکار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اس معاہدے کو، جسے وہ پہلے "تقریباً حتمی" قرار دے چکے تھے، جلد مکمل ہونے کی امید میں اپنے بڑے بیٹے کا خاندانی سفر بھی منسوخ کردیا تھا اور اپنی ٹیم کے بعض ارکان کو واشنگٹن میں ہی روک لیا تھا تاکہ کسی بھی وقت معاہدے کا اعلان کیا جا سکے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، جو چار روزہ دورے پر بھارت میں موجود تھے، ابتدا میں پُرامید تھے کہ معاہدہ اسی روز طے پا جائے گا، تاہم اعلان بار بار مؤخر ہوتا رہا۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ اس میں مزید چند روز لگ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے کابینہ کا اجلاس "کیمپ ڈیوڈ" میں طلب کیا تھا، مگر خراب موسم کے باعث اسے وائٹ ہاؤس منتقل کرنا پڑا۔ اجلاس کے ابتدائی لمحات میں ہی ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ابھی اعلان کے لیے کچھ موجود نہیں۔ ان کے بقول: "ایرانی معاہدہ بہت چاہتے ہیں، لیکن ابھی نتیجہ نہیں نکلا۔"
مذاکرات کی طوالت پر ٹرمپ کی بے چینی
دی اٹلانٹک کے مطابق مذاکرات کے طویل ہونے سے ٹرمپ سخت خستہ اور برہم ہیں۔ انہیں اندرونِ ملک ان تنقیدوں کا بھی سامنا ہے جن میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے میں کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ ایک طرف کسی بڑے سفارتی معاہدے کے خواہاں ہیں، لیکن دوسری طرف وہ خطے میں نئی فوجی کشیدگی سے بھی بچنا چاہتے ہیں۔ ان کے مشیروں کے مطابق ٹرمپ کو امریکی اسلحہ ذخائر کی محدود صورتحال اور ایران کی جانب سے خطے کی توانائی تنصیبات کے خلاف ممکنہ ردعمل پر شدید تشویش ہے۔
علاقائی دباؤ اور اختلافات برقرار
رپورٹ کے مطابق بعض علاقائی رہنما بھی معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، تاہم کئی بنیادی اختلافات اب بھی باقی ہیں۔ ان میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، پابندیوں کا مستقبل اور خطے میں وسیع تر جنگ بندی کے نفاذ کا طریقہ شامل ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں ٹرمپ کے بعض سخت گیر حامیوں نے ممکنہ "کمزور معاہدے" پر خبردار کیا ہے اور اسے خطے میں طاقت کے توازن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
اس کے برعکس وائٹ ہاؤس کے بعض حکام کا کہنا ہے کہ صرف ایسا معاہدہ قابل قبول ہوگا جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی مکمل ضمانت دے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت کے اندر مذاکرات کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ وزارت خارجہ سمیت بعض اعلیٰ حکام براہِ راست مذاکراتی عمل میں نمایاں کردار ادا نہیں کر رہے جبکہ زیادہ تر بات چیت خصوصی نمائندوں کے ذریعے جاری ہے، جس سے مذاکراتی عمل مزید غیر شفاف ہوگیا ہے۔
دی اٹلانٹک کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے ایک "بڑی سفارتی کامیابی" حاصل کرنے کی کوشش اب تک شدید مشکلات سے دوچار ہے اور ابھی یہ واضح نہیں کہ جاری مذاکرات کسی پائیدار معاہدے پر منتج ہوں گے یا نہیں۔
آپ کا تبصرہ