اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اس خط میں سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ حملہ آوروں کو سلامتی کونسل کو اپنے غیر قانونی اقدامات کے جواز کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔
سید عباس عراقچی، نے یہ خط اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش، چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اور اقوام متحدہ میں چین کے سفیر اور سلامتی کونسل کے موجودہ صدر فو کونگ کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کے دیگر اراکین کو بھیجا ہے۔
وزير خارجہ سید عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ایک خط میں آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بحرین اور امریکہ کی مشترکہ قرارداد کے مسودے پر اعتراض کیا ہے ۔
سید عباس عراقچی نے اس خط میں زور دیا ہے کہ مجوزہ قرارداد کے مسودے میں موجودہ صورتحال کی اصل وجہ یعنی "امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی طرف سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت اور غیر قانونی طاقت کے استعمال" کو نظر انداز کر دیا گیا ہے اور ایک متعصبانہ بیان پیش کر کے خلیج فارس میں امریکہ کے غیر قانونی اقدامات کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کی گئ ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے امریکہ کی طرف سے بحری ناکہ بندی، حملے اور ایرانی جہازوں کو ضبط کرنے کا ذکر کرتے ہوئے اس مسودے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کی ساتویں شق کا حوالہ دئے جانے کو "غیر ضروری اور نامناسب" قرار دیا اور خبردار کیا کہ ایسی قرارداد کی منظوری سلامتی کونسل کے وقار کو مجروح کرے گی اور اس بین الاقوامی ادارے کے سیاسی استحصال کی راہ ہموار ہوگی۔
سید عباس عراقچی نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اگر جنگ کا مستقل خاتمہ ہو جائے اور ایران کے خلاف غیر قانونی پابندیاں اور ناکہ بندی ختم کر دی جائے تو آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمد و رفت بحال ہو جائے گی۔
انہوں نے آخر میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور اس کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسودے کی حمایت سے گریز کریں۔
آپ کا تبصرہ