17 مئی 2010 - 19:30

عراق کے پارلیمانی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق "حکومت قانون الائنس" اور "عراق قومی الائنس" ـ بالخصوص عراق کے جنوب اور مرکز میں ـ دوسروں سے آگے آگے ہیں جبکہ ان دو اتحادوں کے ووٹوں کی تعداد میں تھوڑا ہی اختلاف ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بعثی، امریکی اور سعودی سازشوں کے باوجود عراق کے پارلیمانی انتخابات میں اب تک "سیدعمارحکیم"، "اور "وزیراعظم" "نوری المالکی" کے اتحاد دیگر جماعتوں اور اتحادوں سے پیش پیش ہیں۔ عراق کی مجلس اعلی کے سربراه، سیدعمار حکیم 30 کی قریب سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے اتحاد "عراق قومی الائنس" کے سربراہ ہیں۔ اس اتحاد میں صدر گروپ جیسی مقتدر سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ 40  کے قریب سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے اتحاد "حکومتِ قانون" الائنس کے سربراه وزیراعظم نوری المالکی ہیں۔ اس اتحاد میں اراکین پارلیمان، وزراء اور دینی و قبائلی شخصیات بھی شامل ہیں۔ دریں اثناء بعض دیگر گروہوں اور جماعتوں نے بھی کامیابی کے دعوے کئے ہیں اور عراق کے مختلف شہروں میں ان تنظیموں کی طرف سے جشن منایا جارہا ہے جن کا دعوی ہے کہ انتخابات میں وہی کامیاب ہوئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ انتخابات کے ابتدائی نتائج چند ہی گھنٹوں میں سامنے آئیں گے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ تقریباً 500 عرب اور غیر عرب ـ بیرونی ـ ناظرین عراق کے پارلیمانی انتخابات کے نگرانی کررہے ہیں جن میں عرب لیگ کے ستر ناظرین بھی شامل ہیں جبکہ انتخابات کی نگرانی کے لئے اندرون ملک دولاکھ پچاس ہزار ناظرین متعین ہیں۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق عراق کے پارلیمانی انتخابات میں 62 فیصد رائے دہندگان نے شرکت کی ہے۔عراقی الیکشن ہائی کمیشن کی سربراہ محترمہ "حمدیہ حسینی" نے بغداد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 62.4 فیصد ووٹروں نے انتخابات میں حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے اور انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان 18 مارچ کو ہوگا۔ انتخابات کے لئے پولنگ کا آغاز کل صبح سات بجے سے ہوا اور ووٹنگ کا سلسلہ شام 5 بجے اختتام پذیر ہوا۔ ان انتخابات میں پارلیمان کی 325 نشستوں پر 165 سیاسی جماعتوں اور تنظیموں پر مشتمل 12 اتحادوں کے 6172 امیدواروں نے حصہ لیا۔................./110متعلقہ رپورٹیں:

ـ مارٹر گولوں کے حملے میں 18 افراد ہلاک ، متعدد زخمی

ـ بعثیوں نے دھاندلی کو اپنی شکست کا سبب قرار دیا

ـ ایاد علاوی کے ساتھ سعودی بادشاہ کے مذاکرات کی ان کہی باتیں/ سعودی عرب عراق پر اہل تشیع کی حکمرانی نہیں چاہتا۔