پاکستان کے قبائلی علاقے کْرم ایجنسی میں طالبان کے ایک مرکز میں دھماکے کے نتیجے میں چار شدت پسند ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوگئے ہیں جبکہ پاکستانی سکیورٹی فورسزنے پاک افغان سرحدپر افغانستان سے فرار ہوکر پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 200 افغان طالبان کو گرفتار کرلیا ہے، پشاور میں امن لشکرکی گاڑی پر ریموٹ کنٹرول حملے میں تین افراد زخمی ہوگئے جبکہ ہنگو اور کوہاٹ میں سرچ آپریشن کے دوران 43مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا.
مینگورہ میں گزشتہ روز ہونے والے بم دھماکے کے بعد سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ منگل کو تحصیل وسطی کْرم کے علاقے علی شیرزئی دار میں شدت پسندوں کے ایک مرکز میں اس وقت ایک زوردار دھماکہ ہوا جب دہشت گرد اس مرکز کو خالی کرنے کے بعد اس کی چاردیواری میں بارود نصب کررہے تھے۔ دھماکے میں چار شدت پسند ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں کو مقامی طالبان نے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
ہلاک ہونے والے تمام مقامی طالبان ہیں جن کا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے بتایا جاتا ہے۔ دوسری جانب افغانستان میں پاکستان کے سفیر محمد صادق خان نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان صوبہ ہلمند میں جاری آپریشن کے بعد افغانستان سے فرار ہوکر پاکستان میں داخل ہونے والے 200 افغان طالبان کو گرفتار کرلیا ہے۔
چند سالوں سے دہشت گردی کی یہ جنگ جاری ہے سینکڑوں کی تعداد میں پاکستانی و افغانی طالبان کی گرفتاری کی خبریں میڈیا کی زینت بن چکی ہیں۔ان کے جرم روز روشن کی طرح عیاں ہونے کے باوجود ان کے اعترافات بھی موجود ہیں لیکن یہ بات کبھی بھی سامنے نہّیں آسکی کہ ان دہشگردوں کو سزا بھی سنائی گئ ہو اور اس پر عملدرآمد ہوا ہو، اور عام عوام کے لئے باعث عبرت بنے ہوں.
......................
/152
17 مئی 2010 - 19:30
News ID: 179751
پاکستانی سکیورٹی فورسزنے پاک افغان سرحدپرافغانستان سے فرارہوکرپاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 200افغان طالبان کو گرفتارکرلیاہے.