اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پروفیسر یعقوب کسوانی نے کہا کہ صہیونیوں نے جب سے فلسطین پر قبضہ کیا ہے وہ فلسطینی رہنماؤں کو قتل کرنے کی براہ راست یا بالواسطہ کارروائیاں کررہے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے محمود المبحوح کا قتل بعید ازقیاس نہیں ہے۔ اس طرح کی کارروائی صہیونی مجرمانہ فطرت اور عادت ہے۔
پروفیسر یعقوب کسوانی نے اسرائیل سے مذاکرات کو جرم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی حکومت کے اتنا بڑا جرم کرنے کے بعد اس سے نام نہاد امن کے نام پر دوستی کا ہاتھ بڑھانا قابل شرم ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کو اسرائیل سے ہر قسم کے تعلق ختم کردینے چاہئیں۔ اسرائیل سے کسی صورت میں مذاکرات نہ کیے جائیں۔
مصر کے کردار کے حوالے سے پروفیسر یعقوب کسوانی نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ڈیوڈ کیمپ معاہدے کے بعد سے مصر عرب اسرائیل تنازعے سے نکل گیا۔ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے مصر کو تاریخی کردار ادا کرنا چاہیے۔ مصری قیادت کو غزہ کی سرحد پر زیر زمین فولادی دیوار کی تعمیر روک دینی چاہیے۔ اس دیوار کی تعمیر سے اسلام کے حوالے سے مصر کی شہرت کو نقصان پہنچا ہے۔
مقبوضہ فلسطین میں اسلامی مقدسات کو لاحق خطرات کے متعلق کسوانی نے کہا کہ امت مسلمہ صرف مذمتی قراردادوں اور بیانات پر اکتفا نہ کرے بلکہ مسجد اقصیٰ اور دیگر اسلامی مقدسات کو بچانے کے لیے اقدامات کرے۔ صہیونی حکومت کو مقبوضہ بیت المقدس کو یہودیانے سے روکنے کے لیے ہر منبر استعمال کیا جائے۔
ماہر اقتصادیات نے ذکر کیا کہ عالمی مالیاتی بحران میں اسلامی ممالک کے اربوں ڈالر بہہ گئے۔ کاش کہ ان میں سے کچھ حصہ مسئلہ فلسطین کے لیے خرچ ہوا ہوتا۔ اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ فلسطینی شہریوں کی مدد کریں تاکہ وہ بیت المقدس سے نقل مکانی نہ کریں۔
/152