17 مئی 2010 - 19:30

اس وقت جبکہ یورپی ذرائع ابلاغ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا حقیقی چہرہ مخدوش کرنے کی مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں ہندوستان کی مسلم اور غیر مسلم مفکرین نے ایک وسیع پروگرام کے ذریعے رسول اللہ (ص) کو اس ملک کی ایک ارب مسلمانوں کو متعارف کرانے اور حضور (ص) کا پیغام سب تک پہنچانے کا وسیع پروگرام مرتب کیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اس پروگرام کا نام "محمد (ص) سب کے لئے" ہے اور اس کے بانیوں کی کوشش ہے کہ تمام ہندیوں ـ بالخصوص غیر مسلم ہندوستانیوں ـ کو رسول اللہ (ص) کی شخصیت سے روشناس کرائیں۔
جماعت اسلامی مہاراشٹر کے سربراہ نظر محمد مادو نے بمبئی میں اس پروگرام کے آغاز پر کہا: یہ پہلا موقع ہے کہ نہ صرف مسلم علماء بلکہ غیر مسلم علماء بھی اس عظیم پروگرام میں شرکت کررہے ہیں۔
انھوں نے کہا: ہندوستان کا معاشرہ ایک کثیرالمذاہب معاشرہ ہے اور ہم اپنے بھائیوں اور بہنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اسلام پر صحیح طریقے سے غور و فکر کریں۔
اس تفریب میں کثیر تعداد میں مسلم اور غیر مسلم علماء اور دانشوروں نے شرکت کی تھی؛ بعض ہندو شرکاء نے کہا کہ رسول اللہ (ص) کا پیغام عالمی امن اور اخوت و برادری کا پیغام ہے اور یہ پیغام صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص نہیں ہے بلکہ ایک عالمی پیغام ہے۔
مراتھا سیوا سنگھ کے سربراہ پرشوتم خدکار نے کہا: حضرت محمد (ص)  برادری، امن اور مساوات کا عالمی پیغام لے کر دنیا میں تشریف لائے اور یہ اقدام کسی بھی زمانے میں فراموش نہیں کیا جانا چاہئے بلکہ اس پیغام کو ہمیشہ زندہ رکھنا چاہئے اور اس پر عمل کرنا چاہئے؛ چنانچہ اگر ہم کہہ دیں کہ اس عظیم شخصیت کا تعلق صرف مسلمانوں سے ہی تو یہ ایک بڑی غلطی ہوگی۔
خدکار جو ہندو معاشرے میں ذات پات کی تقسیم کے خلاف برسرپیکار ہیں، نے کہا: حضرت محمد (ص) وہ عظیم ہیرو ہیں جو سماجی انصاف، انسانی حقوق اور مساوات ساتھ لائے تھے اور اپنی پوری زندگی کے دوران انسانوں کو اتحاد اور یکجہتی کا پیغام پہنچاتے رہے؛ اور ہمیشہ ایک اچھے معاشرے اور عدل و انصاف پر مبنی حکومت کے قیام کی خواہاں تھے۔
اسی طرح ایک اور ہندو راہنما نے کہا: حضرت محمد (ص) نے امن و صلح اور عدل و انصاف کا سبق سب کو سکھایا مگر آج کے دور میں بعض مسلمان کہلانے والوں نے اس عظیم الشان عطیئے کو مخدوش کردیا ہے ۔ حضور (ص) نے تشدد کی ہمیشہ مذمت کی ہے اور سب کو عالمی برادری و محبت و اخوت کے قیام کا پیغام دیا ہے۔
اس تقریب میں کئی غیر مسلم شرکاء نے خطاب کرتے ہوئے رسول اللہ (ص) کو معاشرے کے شیاطین کے خلاف جدوجہد کی علامت قرار دیا اور کہا: محمد (ص) طبقہ پرستی اور استحصال کو نیست و نابود کرنے والی شخصیت کے مالک ہیں۔
پروگرام کے جزئیات
یہ پروگرام اٹھائیس فروری تک جاری رہے گا اور شرکت کرنے والے اس کیمپین کے ذریعے سماجی ناانصافی، عورتوں کو زندہ دفن کرنے، جہیز و حق مہر کے حوالی سے غلط رسموں، بچوں کو محنت پر مجبور کرنے، شراب نوشی، انسانی حقوق کی پامالی، دہشت گردی اور تشدد کے خلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے تاریخی اقدامات کی تشریح کریں گے۔
اس کیمپین کے تحت متعدد مسلم اور غیر مسلم شخصیات ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کریں گی اور عوام کے ساتھ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیغام کے بارے میں بات چیت کریں گی۔
.................................
/110