اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حسن نصر اللہ اور احمدی نژاد نے لبنان میں ترقیاتی کاموں پر بھی بات چیت کی ،احمدی نشاد نے حسن نصر اللہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ روز حسن نصر اللہ کے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی طاقتیں لبنانی مزاحمت سے ڈر گئی ہیں اور صہیونی ریاست اسرائیل لبنان کی ٣٣ روزہ جنگ اور غزہ میں ٢١ روزہ جنگ میں اپنی ساکھ کھو چکی ہے اور اب اپنی ساکھ بحال کرنے کی کوشش میں ہیں ۔ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے مزید کہا کہ اسرائیل میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ لبنان پر حملہ کر سکے کیونکہ وہ ڈرا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ہر دم تیار رہنا ہے اور اگر اسرائیل نے وہی غلطی دہرائی جس کا اس نے قبل ازیں ارتکاب کیا تھا تو اس کو شدید نقصان پہچائیں گے۔ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے حسن نصر اللہ کو یقین دہانی کرائی کہ ایرانی حکومت لبنانیوں کے ساتھ ہے ۔اس موقع پر حسن نصر اللہ نے کہاکہ ہم غاصب صہیونی ریاست کی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوتے اور اسرائیلی دھمکیوں پر کان نہیں دھرتے۔

سید حسن نصر اللہ نے اسی طرح بیروت میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل جنگ کرنے کی حالت میں نہیں ہے اور اگر صہیونی ریاست نے جنگ کاآغاز کیا تو اسے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا ہو گا اور ایسی صورت میں اسرائیل کو سخت ترین نقصان پہنچائیں گے۔انہوں نے کہا ہمارے پاس اتنی طاقت ہے کہ اسرائیل اب نئی جنگ شروع کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا اور اگر اس نے اس بار بیروت کے رفیق حریری ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا تو ہم تل ابیب ائرپورٹ پر راکٹ برسائیں گے۔اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ لبنان کی جانب سے سولہ فروری کو شہید راغب حرب،شہید عباس موسوی اور حاج عماد مغنیہ سمیت شہدائے لبنان و حزب اللہ کی یاد میں اور شہدائے حریت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے بیروت میں لاکھوں افراد نے ریلی نکالی ،جبکہ برسی کے حوالے سے پروگرام امام بارگاہ سید الشہداء امام حسین علیہ السلام بیروت میں منعقد ہوا ۔ریلی کی خاص بات یہ تھی کہ ریلی کے شرکاء سے قائد حزب اللہ سید حسن نصر اللہ نے خطاب فرمایا. حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تو اسرائیل میں بھی تباہی پھیلا دی جائے گی۔بیروت میں کمانڈر عماد مغنیہ کی دوسری برسی پر خطاب کرتے ہوئے حسن نصراللہ نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان میں اگر بیروت ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا تو اسرائیل میں تل ابیب ائرپورٹ کو نشانہ بنایا جائے گا۔اگر لبنان کی حساس تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو اسرائیل کی حساس نتصیبات پر بھی تباہی پھیلا دی جائے گی۔ اسی طرح لبنانی فیکٹریوں،بجلی گھروں اور دیگر تنصیبات پر حملوں کا جواب بھرپور قوت سے دیا جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم جنگ کے خواہاں نہیں ہیں لیکن اپنے وطن اور عزت سے قدرت کے ساتھ حفاظت کریں گے.
...................
/110