17 اپریل 2010 - 19:30

آیت اللہ العظمی خامنہ‏ای نی فرمایا: ملت ایران نے 22 بہمن کے روز تمام مخالفین کے منہ پر زبردست مکہ رسید کیا ... ایرانی عوام نے سب پر حجت تمام کردی... جو لوگ انقلاب سے الگ ہوں گے خود ہی خسارہ اٹھائیں گے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ‏ای نے مشرقی آذربائیجان سے  آپ کی ملاقات کے لئے آنے والے ہزاروں مؤمن و انقلابی عوام سے خطاب کرتے ہوئے 22 بہمن کی ریلیوں میں عوام کی وسیع اور مبہوت کردینے والی شرکت کو خدا کا معجزہ قرار دیا اور فرمایا: ملت ایران نے 22 بہمن 1388 ہجری (11 فروری 2010) آگہی، بصیرت، ہمّت اور توفیق خداوندی کی برکت سے اسلامی جمہوری نظام کے تمام مخالفین کو دندان شکن جواب دیا اور حجت سب پر تمام کردی۔

مشرقی آذربائیجان کے عوام 18 فروری 1978 کو تبریزی عوام کے قیام کی سالگرہ کے سلسلے میں رہبر معظم سے ملاقات کے لئے آئے تھے۔

رہبر انقلاب نے اسی مناسبت سے صوبہ آذربائیجان بالخصوص شہر تبریز کے بیدار اور ہوشیار عوام کے انقلابی، تخلیقی اور مؤثر اقدام کو خراج تحسین پیش کیا اور ایران کے اسلامی انقلاب کی بقاء اور جاودانگی اور دنیا کی ملتوں میں اس کے اثر و رسوخ کے فروغ کے اسباب و عوامل عوامل کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا: چونکہ انقلاب اسلامی سخنِ حق پر مبنی تھا اور امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کی طرف سے اس کے لئے معینہ اہداف و مقاصد ایران کے مسلم عوام کی فطرت سے ہماہنگ تھے ـ چنانچہ شجرہ طیبہ کی مانند ـ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس انقلاب کی تابندگی اور درخشندگی اور اس کی تأثیرگذاری میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور اس نے اللہ کے لطف و عنایت سے بہت سے قلبوں کو اپنی طرف کهینچ لیا ہے۔

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ‏ای نے ایران کے اندر انقلاب اسلامی کی روز افزوں عظمت اور دیگر ملتوں پر اس کے ناقابل انکار اثرات اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے تحریکوں کے اثرات میں کمی واقع ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس جاودانگی اور بقاء کا راز انقلاب اسلامی کی حقانیت ہے اور اسی بنا پر اس سال انقلاب اسلامی کی اکتیسویں سالگرہ کی ریلیوں میں عوام کی شرکت گذشتہ سالوں کی نسبت کہیں زیادہ طاقتور اور مؤثر تھی۔

آپ نے فرمایا: انقلاب کے دشمن اور بعض دیگر افراد جو دانستہ یا نادانستہ طور پر دشمن کے لب و لہجے میں بولتے ہیں، یہ باور کرانے کی سر توڑ کوششیں کررہے ہیں کہ "انقلاب اسلامی اپنے راستے سے منحرف ہوگیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج انقلاب اسلامی کی راہ اور اس کے اہداف وہی راہ اور وہی اہداف ہیں جو امام عظیم الشأن رحمۃاللہ علیہ نے اس کے لئے ترسیم کئے تھے ... اگر انقلاب اسلامی اپنے راستے اور اہداف سے منحرف ہوتا تو عوام کی اتنی عظیم جمعیت اور اتنے سارے دل، جذبات اور محرکات اس انقلاب کے نام اور اس کی یاد سے حرکت میں نہ آتے۔

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ‏ای نے فرمایا: انقلاب اسلامی اور اس کے اہداف سے وفاداری کا نتیجہ عزت و عظمت، طاقت، اعلی مقاصد کا حصول اور اللہ کی بارگاہ میں اجر و ثواب کا حصول ہے؛ اور اگر کوئی انقلاب اسلامی کے ساتھ کئے ہوئے عہد میں سستی یا بدعہدی کرے اس کا نتیجہ اس کے اپنے نقصان کی صورت میں برآمد ہوگا کیونکہ (یہ طے ہے کہ) انقلاب اسلامی پوری قوت سے اپنی پیش قدمی جاری رکھے گا اور جو افراد انقلاب اسلامی سے الگ ہوں یا دشمن کے کہنے پر انقلاب کے مد مقابل آکھڑے ہوجائیں وہ خود ہی زیان و خسران سے دوچار ہونگے۔

آپ نے 22 بہمن کے روز عوام کی مبہوت کردینے والی شرکت اور اس روز اللہ کے عظیم معجزے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: دشمن اور انقلاب اسلامی کے مخالفین ـ خواہ وہ معاند دشمن ہوں یا غفلت کا شکار ہوکر دشمن کی صف میں کهڑے ہوگئے ہوں ـ عرصۂ دراز سے 22 بہمن کے روز عوام کے درمیان جهڑپیں کرانے کی کوششوں میں مصروف تھے اور عوام کو نظام اسلامی سے روگردانی کی تلقین کررہے تھے اور اس سلسلے میں انهوں نے وسیع منصوبہ بندی بھی کی تھی مگر ملت ایران نے آگہی، بصیرت، ہمّت اور اللہ کے دست قدرت کی امداد سے ـ جس نے ان کے قلبوں کو بیدار کردیا تھا ـ 22 بہمن کے روز تمام مخالفین کے منہ پر زبردست مکہ رسید کیا ... عوام نے اس روز حجت سب پر تمام کردی اور ان کے اس اقدام کے بعد بیرونی دشمن اور اندرونی مخالفین کو بھی بیدار ہوکر توہمات کی دنیا سے باہر آنا چاہئے۔

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ‏ای نے زور دے کر فرمایا: بہت عرصہ پہلے سے بعض مغربی حکام منجملہ صدر امریکہ تسلسل کے ساتھ "ایرانی عوام" کی اصطلاح دہرا رہے تھے لیکن 22 بہمن کو عوام کی وسیع اور عظیم ریلیوں نے ان کو رسوا اور اللہ کی بارگاہ میں شرمندہ کردیا۔

آپ نے فرمایا: بعض لوگ ملک کے اندر بھی غفلت اور عدم تعقل کا شکار ہوکر یا پهر عناد اور دشمنی کی بنا پر اسلامی نظام کی عمومی حرکت کے خلاف بول رہے تھے اور عوام کا نام لے کر عوام کی حمایت کا دعوی کررہے تھے لیکن 22 بہمن کے روز عوام نے واضح کردیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور ان کے مقاصد و اہدف کیا ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے واضح کیا: یہ لوگ ان توہمات کی وجہ سے ـ جو دشمن کی جانب سے ان کے وجود میں برانگیختہ کئے گئے تھے ـ مغرور ہوگئے تھے اور ان کا تصور یہ تھا کہ عوام انقلاب اسلامی اور امام خمینی رحمۃآللہ علیہ کے راستے سے منحرف ہوگئے ہیں مگر عوام نے 22 بہمن کے روز ان کو دندان شکن جواب دیا۔

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ‏ای نے اسی طرح ایران کے سلسلے میں چند ایک مستکبر و سامراجی حکومتوں کے توہمات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ سامراجی حکومتیں ـ جو غالبا اپنے عوام کے نزدیک بھی مقبولیت سے محروم ہیں ـ اپنی تقاریر میں یوں ظاہر کرتی ہیں کہ گویا عالمی برادری ایران کے خلاف ہے حالانکہ عالمی برادری ـ یعنی اقوام عالم اور متعدد ممالک کی حکومتوں کا مجموعہ ـ ان سامراجی حکومتوں سے ناراض ہے اور کسی صورت میں بھی اسلامی جمہوریہ کے خلاف نہیں ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: البتہ ان چند سامراجی حکومتوں کو ـ جو صہیونی کمپنیوں کے زیر تسلط ہیں ـ اسلامی جمہوریہ کا مخالف ہی ہونا چاہئے کیونکہ اسلامی نظام نے دنیا میں عدل و انصاف کا نعرہ لگایا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جس روز عالمی سرمایہ داری کا اخبوطی جال (Octopusal Network) ہماری تعریف کرے اس روز ہمیں عزاداری کرنی پڑے گی۔

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ‏ای نے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران اپنے موقف سے ـ جو اقوام عالم اور بہت سے حکومتوں کی دلی خواہشات کا آئينہ دار ہے ـ پیچھے ہرگز نہیں ہٹے گا اور کسی صورت میں بھی ان مخالفتوں اور دہمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوگا ... ہم صراحت کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ ہم استکبار و استعمار اور دنیا پر چند ایک ممالک کے تسلط کے خلاف ہیں اور ان کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں اور ہرگز اجازت نہیں دیں گے کہ یہ ممالک دنیا کی مقدرات کو بازیچہ قرار دیں۔

آپ نے فرمایا: جوہری توانائی، انسانی حقوق اور جمہوریت کے سلسلے میں استکباری قوتوں کی طرف سے حیلوں بہانوں اور جھوٹی تشہیراتی مہم کا بنیادی سبب شفاف موقف اور ملت ایران کی استقامت ہے اور اب امریکیوں نے ایک بار پہر اپنے ایلچی کو " پھيری والوں کی مانند" خلیج فارس کے علاقے میں روانہ کردیا ہے تا کہ وہ علاقے کے ممالک میں جاکر وہی جھوٹی باتیں دہرائے مگر اس وقت کوئی بھی ان کی باتوں کا یقین نہیں کرتا کیونکہ امریکہ کو علاقے کے ممالک اور عوام کے مفادات کی فکر ہرگز لاحق نہیں ہوئی بلکہ اس کے بالکل برعکس جہاں تک امریکہ کی توانائی نے ساتھ دیا ہے اس نے اپنے ناجائز مفادات کے قدموں تلے اس خطے کے مفادات کو کچل ڈالا ہے۔

آپ نے فرمایا: امریکہ ہی حقیقی جنگ طلب قوت ہی؛ امریکہ نے خلیج فارس کے ممالک کو ہتھیاروں کے ڈھیر میں بدل دیا ہے؛ اس نے عراق اور افغانستان پر یلغار کر رکھی ہے اور اب وہ پاکستان کے لئے بھی وبال جان بن گیا ہے اور اسی اثناء میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جهوٹی تشہیراتی مہم چلارہا ہے۔

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ‏ای نے فرمایا: خطے کی تمام اقوام اور بہت سے حکومتوں کو معلوم ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران امن و آشتی، اخوت و برادری اور علاقے کے ممالک سمیت تمام اسلامی ممالک کی عظمت کا خواہاں ہے۔

آپ نے امریکی حکام کے حالیہ اقدامات کو ان کی انفعالیت اور کھسیاہٹ کی علامت قرار دیا اور فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران اس سال بھی مستکبرین کے خلاف اپنی جدوجہد میں ـ دسیوں بار کامیابی کے بعد ایک بار پھر ـ کامیاب ہوگیا ہے اور ان کو شکست و ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔

رہبر انقلاب نے انتخابات کے بعد رونما ہونے والے واقعات اور بعض افراد کی نادانی اور غلط اندازوں اور محاسبوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: دشمن نے ان واقعات سے استفادہ کرکے اسلامی جمہوریہ کو کمزور کرنے کی کوشش کی لیکن یہ واقعات نہ صرف اسلامی جمہوریہ کی کمزوری کا سبب نہ بن سکے بلکہ پہلے کی نسبت اسلامی نظام کی زیادہ سے زیادہ طاقت کا باعث ہوئے۔

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ‏ای نے فرمایا: اگر انقلاب سے قبل دلیل و سند دکھا کر لوگوں کو بتانا پڑتا تھا کہ دشمن گہات لگائے بیٹھا ہے تو لوگوں نے انتخابات کے بعد اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ دشمن کیونکر گھات لگا کر بیٹھا ہے؛ چنانچہ وہ رکے بغیر میدان عمل میں حاضر ہوئے اور اس کے بعد بھی ایسا ہی ہوگا... عوام اس کے بعد زیادہ سے زیادہ جوش و خروش اور سنجیدگی اور ہمّت کے ساتھ علم و صنعت، تجارت و محنت اور کام کاج کے میدانوں میں حاضر ہونگے اور زیادہ سے زیادہ سنجیدگی اور جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: 22 بہمن کے مبہوت کن دانشمندانہ عوامی اقدام کے بعد سرکاری ذمہ دار حکام کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے؛ عوام نے ثابت کرکے دکھایا کہ انقلاب، ملک اور اقدار کا دفاع کرنے کے لئے تیار ہیں چنانچہ مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے ذمہ دار حکام اور دیگر خدمت گذاروں کو ملت کے سامنے خضوع اور انکسار و احترام کے جذبے کے ساتھ دوگنی سنجیدگی اور محنت کرکے معاشرے کے مسائل اور بے ضابطگیاں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ‏ای فرمایا: کوئی بھی ایسا مسئلہ اور کوئی بھی بے ضابطگی ایسی نہیں ہے جس کو ایمان پر مبنی ارادے کی قوت سے حل نہ کیا جاسکے اور تینوں شعبوں (مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ) کے ذمہ دار حکام سمیت عوام کا ہر فرد اللہ کے لطف و کرم کے سائے میں یہ مسائل حل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے تا کہ مشکلات کا خاتمہ ہو؛ ملت ایران کا مستقبل، روشن اور تابندہ ہے اور اس ملت نے اہداف کی چوٹیاں فتح کرنے کا عزم کرلیا ہے اور یقینا یہ اہداف حاصل کرکے رہے گی اور تمام اقوام عالم کے لئے نمونہ عمل بن کر ابھرے گی تا کہ دنیا کی ملتیں جان سکیں کہ عزت و عظمت کا راستہ کیسا ہوتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے دوسرے حصے میں آذربائیجان اور تبریز کے عوام کی دو اہم اور ممتاز خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تبریز کے عوام ہمیشہ آغاز کردینے والے اور پیش پیش اور حالات سدھارنے کے حوالے سے تخلیق کار رہے ہیں؛ اور 18 فروری 1978 کا قیام اسی حقیقت کی ایک مثال تھی کیونکہ اگر تبریز کے عوام یہ عظیم کارنامہ سرانجام نہ دیتے ملک میں اربعینوں کا سلسلہ شروع نہ ہوتا۔

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ‏ای نے "وفاداری" کو آذربائیجانی و تبریزی عوام کی دوسری ممتاز خصوصیت قرار دیا اور فرمایا: تبریز میں انقلاب اسلامی کے آغاز میں "پہلے فتنے" کے وقت امام بزرگوار رحمۃاللہ علیہ نے نبریزی عوام کی ہمّت، غیرت، آگہی اور بصیرت کو بخوبی پہچان لیا اور فرمایا: عوام فتنہ پروروں کا جواب دے دیں گے اور ایسا ہی ہوا۔

آپ نے آذربائیجان اور تبریز کے عوام کی اس خصوصیت کی بقا و دوام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آج بھی تبریز کے عزیز نوجوان ـ جنہوں نے نہ تو امام رحمۃاللہ علیہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور نہ ہی مقدس دفاع کے ایام اور [شہید کمانڈر] باکری جیسی شخصیات کو دیکھا ہے، اسی استقامت و بصیرت کے ساتھ میدان عمل میں حاضر ہوتے ہیں جس کو لے کر تبریز کے نوجوان 18 فروری 1978 کو میدان عمل میں حاضر ہوئے تھے۔

۔۔۔۔۔

110