17 اپریل 2010 - 19:30

ہمیں بتایا جائے کہ امریکی پاکستان میں مختلف علاقوں میں کیا کر رہے ہیں:رکن قومی اسمبلی

قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں نے سانحہ کراچی کے حقائق پیش کرنے اور ملزمان کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کر دیا، اجلاس میں 5 فروری کے کراچی میں دہشت گردی کے واقعات کی پرزور مذمت کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں نے ان مسائل کے حل کیلئے مل بیٹھ کر اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔

پیر کو قومی اسمبلی میں بشریٰ گوہر، ماروی میمن، برجیس طاہر اور ایس اے اقبال قادری نے 5 فروری کو کراچی میں عزاداروں کے جلوس پر ہونے والے حملوں کو زیر بحث لانے کیلئے الگ الگ تحریک التواء پیش کیں۔ وزیر داخلہ رحمن ملک نے اس کی مخالفت نہیں کی جس کے بعد ان کو منظور کرتے ہوئے یکجا کر دیا 

 ایم کیو ایم کے رکن ایس اے اقبال قادری نے کہا کہ کراچی میں بدترین واقعہ ہوا ہے، حالات مزید خراب ہوئے تو بیروزگاری پھیل جائے گی، سیاسی جماعتیں اور دیگر ذمہ داران سر جوڑ کر بیٹھیں تاکہ ایسے واقعات کا سد باب ہو سکے۔

 اے این پی کی خاتون رکن بشریٰ گوہر نے کہا کہ پختونوں کی ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے، کراچی کے واقعات کی تحققیات کرائی جائیں۔ وزیر داخلہ ایوان کو اس حوالے سے آگاہ کریں۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن برجیس طاہر نے کہا کہ اگر 12 مئی کے واقعہ میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاتا تو کراچی میں دیگر واقعات نہ ہوتے، ملک میں اداروں کے استحکام کی ضرورت ہے، سیکورٹی اداروں کی ناکامی افسوسناک ہے، ہمیں اپنی خرابیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ صوبائی حکومت سے تواتر سے ایسے واقعات پر باز پرس کی جائے۔

مسلم لیگ (ق) کی خاتون رکن ماروی میمن نے کہا کہ کراچی کے واقعات پر کوئی جامع رپورٹ ایوان میں پیش نہیں کی گئی، کراچی کے واقعات سے فرقہ وارانہ تعصبات کا تاثر ملتا ہے اس کو زائل کیا جانا چاہئے، مذہبی جلوسوں کو ملتوی کرنے کی بجائے تحفظ دیا جانا چاہئے، وزیر داخلہ بتائیں کہ کراچی میں جند اللہ کا تصور ہے یا نہیں، ہمیں بتایا جائے کہ امریکی پاکستان میں مختلف علاقوں میں کیا کر رہے ہیں۔

سید آصف حسنین نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں یوم عاشور کے فوری بعد حضرت امام حسین  کے چہلم کے جلوس اور بعد ازاں جناح ہسپتال میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔ یہ سلسلہ سوات اور وزیرستان سے شروع ہو کر کراچی تک پہنچا ہے۔ شکیلہ خانم رشید نے کراچی بم دھماکوں پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو مل کر ایسے معاملات کے سدباب کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔

 تہمینہ دولتانہ نے کہا کہ پارلیمنٹ اب بحث و مباحثہ کی جگہ بن گئی ہے، ہمیں ملک میں درپیش مسائل کے حل کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں، عافیہ صدیقی کو بغیر کسی ثبوت کے سزا دی جا رہی ہے ، ہمیں ایک زندہ قوم کے طور پر بیدار ہونا ہو گا۔

 انجینئر امیر مقام نے کہا کہ کراچی میں 40 لاکھ رجسٹرڈ پختون موجود ہیں، کراچی کی تعمیر میں ان کا خون شامل ہے، رحمن ملک سرحد کا بھی دورہ کریں۔ حیدر عباس رضوی نے کہا کہ کراچی میں ازبک، چیچن اور دیگر باشندے بھی رہائش پذیر ہیں، 5 فروری کو کراچی میں ہونے والے سانحہ پر بات کی جانی چاہئے، جناح ہسپتال میں دھماکے میں ایم کیو ایم کے ناظم سمیت 7 کارکنوں کی ہلاکت پر بحث ہونی چاہئے، مگر بحث کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا۔ کراچی ملک کا معاشی و مالیاتی بڑا مرکز ہے، ہمیں اسکے مسائل کی طرف غور کرنا چاہئے.

 152/