بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || بعثت رسولؐ نزول وحی کا آغاز، بنی نوع انسان کی ہدایت، اکمال دین اور اتمام نعمت کی غرض سے اللہ کے آخری پیغمبرؐ کی رسالت کا آغاز ہے۔
پیغمبرؐ کی دعوت محض ایک فکری نظریہ (اور آئیڈیا) نہیں بلکہ دنیا کے لوگوں کی زندکی کے لئے ایک عملی سبق ہے۔ مہربانیوں کے پیغمبرؐ مبعوث ہوئے تاکہ مکارم اخلاق اور انسانی اقدار ـ جیسے رواداری، درگذر، عدل و انصاف اور محبت کو معاشروں میں زندہ کریں۔
پیغمبر اکرمؐ اور آّپؐ کے عظیم معجزے ـ یعنی قرآن کریم ـ کی شناخت ہمیں پیامبرانہ زندگی، عفو و درگذر، بخشش، صداقت، امانت، حقوق الناس کی رعایت جیسی خصوصیات اپنانے کی طرف ہدایت دیتی ہے۔
عید بعثت: عالم وجود کی ہدایت و نورانیت کا دن
27 رجب المرجب عید بعثت ہے۔ یہ عالم اسلام کی سب سے بڑی عید ہے۔ حضرت رسولؐ ہجرت سے 13 سال قبل، 40 سال کی عمر میں مبعوث ہوئے اور غار حرا میں وحی کا فرشتہ پہلی بار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی خدمت میں حآضر ہوئے اور نور و ہدایت کی پہلی آیات اتار دیں؛ چنانچہ یہ دن عالم وجود کا سب سے اہم اور بڑا دن ہے۔
رسول اللہؐ کی ولادت کے وقت دنیا کیسی تھی؟
اس دن پوری دنیا میں اور خاص طور پر جزیرہ نما عرب میں حالات بہت زیادہ نامناسب تھے۔ یہودی احبار اور ربی شریعت موسیٰؑ کو مکمل طور پر انحراف سے دوچار کر چکے تھے، اور اللہ کی کتاب "تورات" میں تحریف کے مرتکب ہو چکے تھے۔ اور دنیا کے سب سے بڑے سودخور بھی یہودی علماء [یعنی وہی احبار اور ربی] تھے۔ [شاید سودخوری کے بانی بھی]۔
دین عیسیٰؑ کی حالت بھی یہودیت سے بہتر نہیں تھی اور عیسائی بھی یہودیوں کی طرح ـ دنیاوی مفادات اور مال و دولت یا جاہ و شہرت کے لئے ـ دنیا پرستی، دین خدا میں انحراف اور کتاب خدا میں تحریف کے مترکب ہوچکے تھے، اور ہو رہے تھے۔ یہ رویہ یہود و نصاریٰ میں معمول کا کام بن چکا تھا، اس لئے کہ انہیں اپنی بے راہرویوں اور برائیوں کے لئے اس کام کی مسلسل ضرورت پڑتی تھی!!
حکمرانی کی صورت حال ظلم و ستم اور ہولناک طبقاتی اختلافات، مجموعی طور پر پوری دنیا ـ حتیٰ کہ اس وقت کی بڑی طاقتوں "ایران اور روم" پر حکم فرما تھی۔ بادشاہوں اور ان کے کارگزاروں کا واحد کام صرف ظلم و جبر ہوتا تھا۔ ایک معاشرتی طبقہ "اشراف" کا تھا جو ملک اور معاشرے کے تمام وسائل اور مال و دوست سے مستفید تھا اور باقی لوگ بالکل محروم تھے اور بنی نوع انسان کے لئے حالات بالکل تِیْرہ و تار تھے۔
جزیرۃ العرب کی خشک اور لق و دق سرزمین ـ جہاں خدائے متعال کو اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا اور تاریخ کے سب سے بڑے پیغمبرؐ ـ یعنی خاتم النبیینؐ ـ کو مبعوث کرنا تھا ـ کی صورت حال دوسرے علاقوں سے کہیں بدتر اور دشوار تر تھی۔ یہاں کے لوگ جہل مطلق میں گھرے ہوئے تھے، اور صرف گنے چنے افراد ہی لکھ پڑھ سکتے تھے اور اعتقاد بت پرستی سے عبارت تھا۔
خانۂ کعبہ، جسے توحید کے سورما، ابراہیم خلیل (علیہ السلام) نے خدائے احد و واحد کی بندکی کے لئے تعمیر کیا تھا، بڑے بت خانے میں تبدیل ہؤا تھا اور اس کے اندر، باہر اور چھت پر بے شمار بت رکھے گئے تھے۔
یہ معاشرہ اقتصادی لحاظ سے دو طبقات پر مشتمل تھا:
1۔ امراء اور اشراف کا طبقہ، جو سرمایہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ خونخوار، سودخور اور ظالم و جابر، بھی تھا۔ یہ ایک بالکل اقلیتی طبقہ تھا۔
2۔ غرباء، مساکین، ضعفاء اور محرومین کا طبقہ، جو غالب اکثریت پر مشتمل تھا۔
میلادِ نور
اس دن کی غالب منطق "شمشیر و سناں" پر مشتمل تھی، اور جو تلوار کے ذریعے دوسرے پر غلبہ پاتا تھا اور اس کے تمام اثاثوں یہاں تک کہ نوامیس کا بھی مالک بن جاتا تھا۔ یہ وہ صورت حال ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنی طاقت و قدرت کا مظاہرہ کرنا تھا۔
خداوند متعال نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو اس طرح کی سرزمین میں مبعوث فرمایا تاکہ پوری انسانیت پر ثابت ہو کہ خدائے قادر متعال جب اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہے تو وہ اس انداز سے اپنی طاقت جتاتا اور منواتا ہے۔
خدائے متعال نے بعثت سے 40 سال قبل، عام الفیل کو ـ جب ابرہہ ہاتھیوں کا لشکر لے کر کعبہ کے انہدام کا ارادہ کرکے مکہ پہنچا تھا ـ حضرت خاتمؐ کو یکتا پرست والد اور پاکدامن اور مؤمنہ والدہ سے خلق فرمایا۔ آپؐ کے والد ماجد اور والدہ ماجدہ اپنے جد امجد ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کے توحیدی دین کاربند تھے۔
آپؐ کے والد ماجد، آپ کی ولادت سے قبل ہی دنیا سے رخصت ہوتے ہیں؛ گویا کہ اللہ کا فیصلہ یہی ہے کہ آپؐ کو قریش اور مکہ کے زعیم اور آپؐ کے دادا حضرت عبدالمطلب (علیہ السلام) کی آغوش میں پروان چڑھیں، وہ آپؐ کی طفولت میں ہی سب کو معلوم تھا کہ آپؐ بالکل منفرد اور بے مثال صفات و خصوصیات کے مالک ہیں جو دوسروں میں موجود نہیں تھیں۔
ظاہر ہے کہ پاکیزہ مؤمن گھرانے کے ساتھ ساتھ، خدا خود آپؐ کا حافظ و نگہبان ہے۔ چنانجہ آپؐ کی پرورش پاکیزگی اور طہارت کی آغوش میں ہوئی، یہودی فلکیات کے ذریعے جان گئے تھے کہ نبی آخرالزمان (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی ولادت ہو چکی ہے، چنانچہ وہ انہیں تلاش کر رہے تھے، وہ آپؐ کو جانتے تھے، جس کی گواہی قرآن کریم نے بھی دی ہے:
"الَّذِينَ آَتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمُ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ؛ (الانعام: 20)
اور وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے، آپؐ کو پہچانے ہیں جس طرح کہ وہ اپنے فرزندوں کو پہچانتے ہیں، وہی لوگ جنہوں نے اپنے کو خسارے میں ڈالا ہے، تو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔"
دین اسلام کے لئے بڑی قیمت ادا ہوئی ہے
سرور کائنات نے ایک ایسے معاشرے میں پرورش پائی؛ آپؐ نے اسی معاشرے میں زندگی گذاری اور اس بدعنوان معاشرے سے دوری اختیار کرنے کے لئے غار حرا کا رخ کرتے رہے اور تفکر میں مصروف رہے۔
آپؐ 40 سال کی عمر میں دیکھتے ہیں کہ غار حرام میں ایک فرشتے نے اپنے پر آپؐ کے سامنے دنیا کے مشرق سے مغرب تک کی فضاؤں میں پھیلا دیئے ہیں؛ اور کہتا ہے "اقْرَأْ؛ پڑھ لیجئے۔" اور آپؐ پڑھ لیتے ہیں:
"بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ؛ (سورہ علق: 1)
پڑھئے اپنے پروردگار کے نام کے سہارے سے جس نے پیدا کیا۔"
اور اس کے بعد وحی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ یعنی یہ کہ آپؐ اس سرزمین اور اس معاشرے میں نبوت پر مبعوث ہوجاتے ہیں۔ اور لوگوں کی ہدایت و راہنمائی میں اس قدر صعوبتیں جھیلتے ہیں کہ فرماتے ہیں:
"مَا أوذِيَ نَبِيٌّ مِثلَمَا أوذِيتُ؛
کسی بھی پیغمبر کو مجھ جتنی اذیتیں نہیں دی گئیں۔" (مجلسی، بحار الانوار، ج39، ص56)
چنانچہ آپؐ نے ایک عمر مصائب برداشت کئے، ایسے مصائب، جو کسی بھی انسان کو مایوس کر سکتے لیکن آپؐ نے صبر و تحمل سے کام لیا، اس لئے کہ دین خدا کو قیامت تک عالم بشریت کی ہدایت کا محور بنا دیں اور ایسا ہی ہؤا: دین محمدیؐ تا قیامت محور ہدایت بنا اور قرآن تا قیامت منارہ نور کا کردار ادا کرتا رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انٹرویو: آیت اللہ حبیب اللہ غفوری، نمائندۂ ولی فقیہ و امام جمعہ ـ صوبہ کرمانشاہ
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ