بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "امریکہ زوال" کا تیسرا بین الاقوامی سیمینار اکتوبر کے مہینے میں، چھ آبان 1404 میں، "دنیا کا نیا دور" کے عنوان سے تہران میں منعقد ہؤا۔ جس میں اندرونی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی مراکز نے شرکت کی اور اندرونی اور غیر ملکی محققین، پروفیسروں نے خطاب کیا اور امریکہ کے سابق سفارت خانے میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بھی کئی فعال کارکنوں اور ماہرین نے بھی اس سیمینار کی ایک نشست میں تقاریر کیں۔
دینیات کے امریکی محقق، مصنف، جریدہ "ثقافتی جنگیں" کے چیف ایڈیٹر ای۔ مائیکل جونز (E. Michael Jones) نے اس سیمینار کے مقرر کے طور پرکہا:
۔۔۔ گمشدہ جنت کے سب سے پہلے قارئین جان گئے کہ شیاطین اس کتاب میں حیرت انگیز طور پر نمایاں ہیں۔ سنہ 1670ع میں ایک اینگلیکن پادری "جان بیل" (John Beal) نے کہا کہ یہ کتاب "شیطان کی لمبی چوڑی گستاخیوں" پر مشتمل ہے۔ بیل جو اس کتاب کا مخالف تھا، نے اس مسئلے کو ملٹن کی ذاتی انتہا پسندی کا نتیجہ قرار دیا کیونکہ جس وقت شیطان بولنے لگتا ہے اس کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں ملٹن کے ان دلائل سے مشابہت رکھتی ہیں جو وہ اپنی ملازمت کے دوران جمہوریہ انگلستان کے مبلغ کے طور پر کیا کرتا تھا۔
یہ مسئلہ، بطریق اتم و اکمل امریکہ میں انگلستان کی نوآبادیوں پر صادق آتا تھا کیونکہ انقلابی "اس کتاب کو [سامنے رکھ کر] پڑھتے تھے"، ان انقلابیوں میں سے ایک تھامس جیفرسن (Thomas Jefferson) تھا جس نے ملٹن کی کتاب کے کچھ اقتباسات اپنی ڈائری میں لکھے ہیں۔ اورلاندو ریڈ (Orlando Reade) کے کہنے کے مطابق، کتاب کے یہ حصے شیطان کی طرف شدید رغیت کو نمایاں کرتے ہیں۔ گمشدہ جنت سے اقتباس شدہ 29 حصوں میں سے، 11 حصے شیطان کے بارے میں ہیں۔ جیفرسن نے یہ حصہ شیطان کی پہلی تقریر سے نقل کرکے لکھا ہے:
کیا حرج ہے اگر میدان جنگ ہاتھ سے نکل گیا؟
سب کچھ ہاتھ سے نہيں نکلا ہے، شکست ناپذیر ارادہ
اور انتقام کا عزم اور زندہ جاوید نفرت [خداوند سے]
اور ہرگز گردن نہ جھکانے اور تسلیم نہ ہونے کی شجاعت
اور، کیا کوئی اور اہم چیز ہے جو ہاتھ سے نکل گئی ہو؟
ریڈ جیفرسن کی یادداشتوں کا یہ حصہ اور دوسرے حصے پڑھنے کے بعد نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ: "جیفرسن کی بنیادی دلچسپی شاطین کے شعبے سے تھی۔ سنہ 1762ع میں وہ ایک خط لکھتا ہے جو شیاطین کے حوالوں سے بھرپور ہے۔" جب جیفرسن اپنی بہن کے گھر میں رہائش اختیار کرتا ہے؛ چوہے اس کے بعض قابل قدر اثاثوں کو چاٹ کھاتے ہیں، اور چھت سے گرا ہؤا ایک پانی کا قطرہ اس کی معشوقہ ریبیکا برویل (Rebecca Burwell) کی تصویرکو تباہ کر ڈالتا ہے۔ جیفرسن غصے کی حالت میں اپنے دوست کو لکھتا ہے: "مجھے شک نہیں ہے کہ اگر شیطان نام کی کوئی چیز اس دنیا میں ہے تو کل رات وہ یہیں تھا اور کچھ سازشی واقعات میں ملوث تھا جو میرے لئے پیش آئے۔" سنہ 1760ع کے عشرے میں ورجینیا (Virginia) میں پیش آنے والے سیاسی واقعات نے جیفرسن کو قائل کر لیا کہ "ملٹن کے جہنم اور امریکہ کے درمیان رابطہ ناگزیر ہے۔"
لیکن صرف جیفرسن ہی نہیں ہے جو ملٹن کے شیطان کی مداحی کرتا ہے۔ جان آدامز (John Adams) جو جیفرسن کے مخالف دھڑے کی انتہا پر تھا، بھی اپنی یادداشتوں میں لکھتا ہے کہ وہ ملٹن کی کتاب کا مطالعہ کرتا رہا ہے: "ایک دھند بھرا اور تھکا دینے والا دن" "حیرت" سے مالامال، "ملٹن کی بے انتہا دانش"۔ ملٹن کا نبوغ (ذہانت) "ادراک سے بالاتر ہے"، اور اس نے آدامز کو اس اعتراف پر مجبور کر دیا ہے کہ "میں صرف حیرت کے ساتھ اس کی طرف گھور سکتا ہوں، بغیر اس کے کہ اس کی قابلیتوں کی وسعت کا ادراک کر سکوں۔" آدامز کی منگیتر " ابیگیل آدامز (Abigail Adams) " کو بھی دنیا کو گمشدہ جنت کی عینک سے دیکھنے کی عادت تھی۔ جان آدامز اور اس کی منگیتر دونوں نے تازہ ایمان لانے والوں کے سے ذوق و شوق کے ساتھ محافل میں ملٹن کی شیطانی نظم کا پرچار کیا۔
سیاسی دھڑے کی انتہا پر، جان ہالیس (John Hollis) جیسے انقلابیوں نے جان ٹولینڈ (John Toland) کی کتاب "ملٹن کی زندگی" (The life of John Milton) کا ایک نسخہ، نیز ملٹن کی کتب کے قیمتی اوراق "بنیامین فرینکلن (Benjamin Franklin) کے لئے ارسال کئے، جو ایک مہمل کام تھا کیونکہ فرینکلن نے اپنی نوجوانی میں ملٹن کی کتاب کے "آدم و حوا" کے حصے کو اپنی خصوصی دعاؤں کے ضمن میں تحریر کیا تھا، یہی نہیں بلکہ گمشدہ اس نے جنت کے کچھ نسخوں کی خرید و فروخت کا کام بھی کیا تھا؛ وہی نسخے جن کی اس نے چھاپہ خانے کے مالک ہونے کے ناطے ٹائپ سیٹنگ (Typesetting) کی تھی، انہیں شائع کیا تھا، ان کی اشاعت کی مالی پشت پناہی کی تھی، انہیں خریدا تھا اور فروخت کیا تھا۔۔۔ جیفرسن نے بھی ملٹن کی کتابوں کے مطلا (Gild) نسخے اپنی عمارت مونٹیسیلو (Monticello) کے لئے خرید لئے؛ ایسی عمارت جو پہاڑ کی چوٹی کی مانند اور نیو-کلاسیکی طرز کا مخروطی بنگلہ، تھی اور "ملٹن کی ماؤنٹین ٹاپ جنت سے متاثر۔"
قدامت پسند ناقدین امریکیوں کو ملٹن کی کتابیں ـ بطور انقلابی رسائل ـ پڑھنے سے خبردار کرتے تھے۔ فلسفی ایڈمنڈ برک (Edmund Burke) ملٹن کی نظم کی توصیف میں لکھتا ہے: "تاریک، غیر یقینی، آشفتہ حال، خوفناک، اور بلند (Sublime). اس زمانے میں لفظ "Sublime" ایک جمالیاتی صنعت کے طور پر ـ اور ان عظیم، ہولناک، اانجانی چیزوں کے لئے ـ استعمال ہوتا تھا جن کا تعلق سیاسی آشفتہ حالی کے ادوار سے ہوتا تھا۔ میتھوڈسٹ پادری ولیم فلیچر (William Fletcher) نے اس مسئلے کا سب سے بہتر ادراک کر لیا تھا۔ فلچر نے "فتنہ انگیز سفسطہ" (Seditious Sophism) کے عنوان سے ایک تنقیدی خط لکھا ہے، وہی سفسطہ جو فرانس اور امریکہ کے انقلابات کا حامی، پادری رچرڈ پرائس (Richard Price) اپنے مواعظ کے دوران استعمال کیا کرتا تھا۔ اس خط میں فلچر رچرڈ پرائس کا ـ ملٹن کے رزمیے کا حوالہ دیتے ہوئے ـ شیطان سے موازنہ کرتا ہے۔
پرائس کی شر انگیز تقریر، اس انقلاب کا غیر تحریری قانون تھا جو امریکہ میں تشکیل پا رہا تھا، اور ممکن ہے کہ شیطان نے اسے خدا کے بیٹے سے کہہ دیا ہو جس وقت کہ ـ ملٹن کے بزعم ـ ان دو نے جنت کی کھیتیوں میں ایک دوسرے سے ملاقات کی ہے:
"میں میدان جنگ میں تجھ سے ملاقات کرتا ہوں، تاکہ اپنی آزادی اور آزادی کے ان لشکریوں کی حریت کا دفاع کروں۔ جس وقت میں اپنے نیزے سے تیرے پہلو میں سوراخ کرتا ہوں۔ ملک میں اور جنت میں [حریت کی حالت میں]، جہاں آزادی نقص وعیب سے پاک ہے، ہر کوئی اپنا قانون ساز ہے۔ آزاد ہونا یعنی ہدایت [اور انتخاب] اپنے ارادے سے؛ اور ہدایت دوسرے کے ارادے سے، بندگی کی خصوصیت ہے۔" فلیچر [شیطان سے نقل کرتے ہوئے] لکھتا ہے: "مسیح کو شہزادہ کہا جاتا ہے، لیکن [مسیح خود کہتے ہیں:] "میں کوئی کام اپنی طرف سے نہیں کرتا، اور مجھے یہ کہتے ہوئے کوئی پروا نہیں ہے کہ اے باپ! نہ میرا ارادہ! بلکہ تیرا ارادہ نافذ ہو۔" اور وہ یہ راز و نیاز ان منکسر المزاجوں کو سکھاتا ہے جو اس کی پیروی کرتے ہیں۔ تو بالکل واضح ہے کہ تو اپنی ذات کے انتظام [خودمختاری] کی طاقت کو محدود کرتے ہو اور غلامی کا پرچار کرتے ہو۔"
شیطانی آزادی، غلامی کا دوسرا نام ہے۔ فلیچر شیطان کی تقریر کے متن کے حوالے دے کر، اس عقیدے کو پرائس اور امریکی انقلاب کے دوسرے حامیوں سے نسبت دیتا ہے کہ: "جہنم میں خودمختاری اور برتری، جنت میں بندے کی طرح اطاعت اور مطیعانہ عظمت پر ترجیح رکھتی ہے [اور مقدم ہے]۔" جیسا کہ شیطان کہتا ہے: "جہنم میں حکومت جنت میں خدمت سے بہتر ہے" فلچر اپنی دلیل کو اس دعوے کے ساتھ ختم کرتا ہے: "آئیڈلسٹ سیراف (Idealist Seraph یعنی شیطان) کا خطاب ان ہی اصولوں کی بنیاد پر ہے جن کی بنیاد پر ڈاکٹر پرائس اپنا مقالہ پیش کرتا ہے۔ یہی شیطانی روح ہے کہ "امریکہ کو ڈبو دے گی، اور عین ممکن ہے کہ برطانیۂ عظمیٰ کو بھی بھنور میں کھینچ لے"۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ