اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت کے تعاون سے وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کے ایک قریبی اتحادی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق الیکس ساب نامی تاجر، جو مادورو کے نہایت قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں، بدھ کے روز وینزویلا میں ایک مشترکہ سکیورٹی کارروائی کے دوران حراست میں لیے گئے۔
54 سالہ الیکس ساب کی گرفتاری امریکی اور وینزویلا کی سکیورٹی فورسز کے باہمی تعاون سے عمل میں آئی۔ امریکی پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے خبر ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ امکان ہے ساب کو آنے والے دنوں میں امریکا کے حوالے کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ الیکس ساب کو اس سے قبل 2020 میں افریقی ملک کیپ وردے میں امریکا کی درخواست پر گرفتار کیا گیا تھا اور وہ تین سال سے زائد عرصہ امریکی حراست میں رہے۔ امریکا نے ان پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے وینزویلا کے تقریباً 350 ملین ڈالر امریکی مالیاتی نظام کے ذریعے غیر قانونی طور پر منتقل کیے۔
ساب نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی اور مؤقف اختیار کیا کہ وہ سفارتی استثنیٰ کے حامل ہیں۔ بالآخر 2023 کے آخر میں قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت انہیں رہا کر دیا گیا، جس کے بدلے وینزویلا میں قید متعدد امریکی شہری واپس امریکا پہنچے۔
رہائی کے بعد مادورو نے الیکس ساب کو ’’قومی ہیرو‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیرِ صنعت مقرر کیا تھا، تاہم حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کے اقتدار میں آنے پر انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق اس تازہ کارروائی میں ڈیلسی روڈریگز کے تعاون نے اہم کردار ادا کیا۔ اسی آپریشن کے دوران سرکاری ٹی وی نیٹ ورک گلوبوویژن کے سربراہ راؤل گورین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، الیکس ساب کے وکیل لوئیجی جولیانو نے گرفتاری کی خبروں کو ’’جعلی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مؤکل حکام سے مشاورت میں مصروف ہے اور جلد عوام کے سامنے آ کر ان خبروں کی تردید کر سکتا ہے۔ مادورو حکومت کے قریبی بعض صحافیوں نے بھی سوشل میڈیا پر ان اطلاعات کو مسترد کیا ہے۔
تاحال وینزویلا کی عبوری حکومت نے اس کارروائی یا ساب کی امریکا حوالگی کے وقت سے متعلق باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
آپ کا تبصرہ