امریکہ لشکرکشی کے بجائے سیاسی حل اور سفارتکاری اپنائے:پاکستانی اخبار
اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، پاکستانی اردو روزنامہ ایکسپریس نے امریکہ اور دیگر بڑی طاقتوں کے جارحانہ رویّوں، یکطرفہ پابندیوں اور جنگی حکمتِ عملیوں کو عالمی نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ واشنگٹن کو فوجی طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی حل اور جامع فریم ورک کی طرف جانا چاہیے۔
اخبار نے جمعے کے روز شائع ہونے والے اپنے اداریے مشرقِ وسطیٰ، عالمی امن کا امتحان” میں ایران کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی دھمکیوں اور خطے میں جنگی بحری جہازوں کی تعیناتی پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔
ایکسپریس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں ایک جانب امریکہ فوجی طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب اسرائیل جنگی فضا کو ہوا دے رہا ہے۔
اداریے میں کہا گیا کہ بڑی طاقتوں کی جارحانہ پالیسیاں، یکطرفہ پابندیاں اور جنگی اقدامات عالمی نظم کو کمزور کر رہے ہیں، جن کی قیمت بالآخر ترقی پذیر ممالک کو چکانا پڑتی ہے۔
اخبار نے واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے مسائل نہ تو فوجی لشکرکشی سے حل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی دھمکیوں اور طاقت کے استعمال سے، بلکہ اس کے لیے سنجیدہ سیاسی مکالمہ اور دیرپا حل پر مبنی جامع حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔
ایکسپریس نے خبردار کیا کہ خطہ مزید طویل جنگوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، کسی بھی فوجی تصادم کے اثرات ہمسایہ ممالک، ترقی پذیر اقوام اور عالمی منڈیوں تک پھیل جائیں گے۔
اداریے کے اختتام پر عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ خاموشی کا وقت ختم ہو چکا ہے، اب پائیدار امن کے لیے فعال کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ عراق، لیبیا اور افغانستان کے تجربات واضح کر چکے ہیں کہ فوجی حل کبھی بھی مسائل کا دیرپا جواب نہیں ہوتا۔
آپ کا تبصرہ