اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رہبرِ انقلاب آیت اللہ خامنہ ایؒ کی توہین کے بعد بحرین کے شیعہ مسلمانوں کے روحانی پیشوا شیخ عیسیٰ قاسم نے ایک تفصیلی بیان جاری کیا۔
شیخ عیسیٰ قاسم نے کہا کہ آج کی دنیا میں زیادہ تر اقوام اور چھوٹی بڑی ریاستیں، خواہ وہ امریکا کی مخالف ہوں یا اس کی حامی، اپنے مستقبل اور پوری دنیا کے انجام کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان کے مطابق دنیا ایک ایسے ہمہ گیر اور تباہ کن خطرے کی زد میں ہے جہاں طاقت کے سوا کسی آواز کو سنا نہیں جاتا اور عقل، دین، اخلاق اور انسانی فطرت مکمل طور پر نظرانداز ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس عالمی خوف کی اصل وجہ امریکی صدر کی بے لگام پالیسیاں اور دنیا پر استکباری تسلط قائم کرنے کی تباہ کن سوچ ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٹرمپ کس قسم کی نام نہاد “اصلاح” کو اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قیادت پر لازم سمجھتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آیت اللہ خامنہ ایؒ وہ رہنما ہیں جن کی حمایت میں ایران بھر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلے اور دشمن کی تخریبی اور نفرت انگیز سازشوں کو ناکام بنایا، جنہیں بیرونی طاقتوں کی مالی اور سیاسی سرپرستی حاصل تھی اور جن کا مقصد اسلامی جمہوریہ کو مکمل طور پر تباہ کرنا تھا۔
شیخ عیسیٰ قاسم نے کہا کہ کوئی بھی باشعور ایرانی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جون میں مسلط کی گئی بارہ روزہ جارحیت اور اس کے بعد مزید وسیع، خونی اور تباہ کن جنگ کی کوششیں ایرانی عوام کی خیرخواہی یا ان کی آزادی اور خودمختاری کے احترام میں کی گئیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ آیت اللہ خامنہ ایؒ علمی، روحانی اور سیاسی اعتبار سے غیرمعمولی شخصیت کے حامل رہنما ہیں، جو آج کی دنیا کے رہنماؤں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران میں لاکھوں مرد و خواتین ایسے ہیں جو انہیں دینی رہبر سمجھتے ہیں، ان کے حکم کو دینی حکم مانتے ہیں اور ان کی سلامتی کو اسلام اور امت کی سلامتی قرار دیتے ہیں۔
شیخ عیسیٰ قاسم نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ایؒ کی پشت پر دنیا بھر میں پھیلی ایک وسیع امت موجود ہے جو ان کی سلامتی اور امتِ اسلام و انسانیت کے لیے ان کی خدمات کے تسلسل کی خاطر ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قیادت کا وجود ہر باوقار اور صالح انسان کے لیے باعثِ خیر ہے اور ان کی فکر، کردار اور جدوجہد عالمی امن، سلامتی، بھلائی اور انسانی بھائی چارے کے لیے ہے۔
آپ کا تبصرہ