17 اپریل 2010 - 19:30

ہندوستان اپنے مالیاتی نظام میں تبدیلی لاکر بیرونی سرمایہ کاری کے لئے امکانات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ 150 ملین مسلم آبادی کو سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دلانے کی کوشش کررہا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ہندوستانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر «رحمان خان» نے کہا ہے کہ کانگریس پارٹی نے اسلامی معاشیاتی نظام متعارف کرانے کی تجویز پیش کی ہے اور یہ پارٹی ان تبدیلیوں کے ذریعے دنیا کے ایک اقتصادی حصے کو تسخیر کرنا چاہتی ہے۔
رحمان خان نے کہا: اسلامی اقتصاد دنیا میں بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کررہا ہے اور مالیاتی شعبے میں کامیاب ترین نظام ہے اور اگر ہندوستان کامیابی کے اس امکان سے خود کو الگ کردے تو یہ غیرمنطقی بات ہوگی۔
ہندوستان میں 150 ملین مسلمان رہتے ہیں اور دنیا کی عظیم ترین مسلم اقلیت اسی ملک میں رہتی ہے۔
چونکہ اسلام نے مسلمانوں کو ربا (سود) کی وصولی اور ادائیگی سمیت جوئے بازی، شراب وغیرہ سے کلّی طور پر منع کیا ہے اور ہندوستان کے بہت سے مسلمان اس ملک کے عام بینکوں سے استفادہ کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔
چین میں 80 ملین مسلم اقلیت رہتی ہے اور اس ملک نے سب سے پہلے نینگیشیا بینک کو اسلامی بینک قائم کرنی کا لائسنس دیا ہے۔
کانگریس پارٹی کی رپورٹ ـ جس کو رحمان خان کے بقول ہندوستانی وزیر اعظم کی تأئید حاصل ہے ـ نے مکمل اسلامی بینکوں کی تأسیس کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے کیونکہ بنیادی مقصد اس وقت ایسے مالیاتی اداروں کی تأسیس ہے جو بینک کے زمرے میں نہیں آتے اور ان اداروں کی تأسیس کا مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلم باشندے بھی اسلامی اصولوں کے مطابق ان میں سرمایہ کاری کرسکیں اور بیرون ملک مسلمان سرمایہ کاروں کو بھی ان اداروں میں سرمایہ کاری کرنے پر راغب کرسکیں۔
اس وقت دنیا میں 300 اسلامی بینک اور مالیاتی ادارے کام کررہے ہیں اور توقع کی جاتی ہے کہ ان میں موجود سرمایہ سنہ 2013 تک ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرجائے گا۔