اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صوبہ بوشہر میں ججوں اور عدالتی عملے سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ دشمن نے 12 روزہ جنگ کے دوران یہ غلط اندازہ لگایا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کمزور ہو چکا ہے، مگر اس مرحلے پر اسے شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور اسی ناکامی کے بعد دشمن نے ایک نئی سازش کے تحت ملک میں بدامنی اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی، جو دراصل اسی جنگ کا تسلسل تھی۔
غلام محسنی اژهای نے کہا کہ حالیہ بدامنی میں تشدد کی سطح غیر معمولی تھی اور اس کے پیچھے دشمن کی مکمل مالی اور تنظیمی معاونت شامل تھی۔
انہوں نے کہا کہ دشمن نے داعش طرز پر خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی تاکہ اپنے مقاصد حاصل کر سکے، مگر 12 جنوری کو عوام نے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر دشمن کی اس سازش کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ بدامنی میں ناکامی کے بعد دشمن اب جھوٹے پروپیگنڈے، افواہوں اور حقائق کو مسخ کرنے کی مہم چلا رہا ہے، جس کے تحت ہلاکتوں کے من گھڑت اعداد و شمار پھیلائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ درست اور مستند اعداد و شمار متعلقہ ادارے جاری کریں گے اور عوام کو افواہوں پر کان نہیں دھرنا چاہیے۔
انہوں نے امریکا اور اس کے صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ دباؤ یا میڈیا مہم کے ذریعے ایرانی عوام کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی قوم اپنے دین، نظریات، وطن اور قومی قیادت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
محسنی اژهای نے موجودہ حالات میں قومی اتحاد کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو بہتر خدمات فراہم کریں۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ بدامنی کے دوران عدالتی عملے نے بعض مقامات پر دن رات عوام کی خدمت کی اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
چیف جسٹس نے حکام کو عوامی توقعات پوری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی امور میں شفافیت، خوش اخلاقی، تیزی اور درستگی کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے بوشہر کی عدلیہ کو ہدایت کی کہ طویل عرصے سے زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹایا جائے اور اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
آپ کا تبصرہ