اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی، تمام 30 لاشیں ایک کراکری کی دکان سے ملی ہیں۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق ملبہ ہٹانےکا کام روک دیا گیا ہے، پہلے لاشیں نکالی جارہی ہیں۔
گل پلازہ میں آگ لگنےکے بعد لوگوں نے خود کو بچانےکے لیے دکان میں بندکرلیا تھا، ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی جگہ کی آئی تھی۔
دکان سے ہم نے خود 14 افراد کی باقیات نکالی ہیں، دکان مالک
کراکری دکان کے مالک سلمان کا کہنا ہےکہ دکان سے ہم نے خود 14 افراد کی باقیات نکالی ہیں، ہماری دکان میزنائن فلور پر ہے، واقعے کے وقت ہمارے کزن اور ملازمین بھی تھے، دکان میں بڑی تعداد میں خواتین اور دیگر افراد بھی موجود تھے۔
ملبے سے اب لاشوں کے بجائے باقیات مل رہی ہیں، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا ہےکہ ہمارے پاس اب تک دو دکانوں سے 21 باقیات لائی گئی ہیں، ہم ابھی کنفرم نہیں کرسکتے ہیں کہ یہ 21 لاشیں ہی ہیں یا کتنے افراد کی باقیات ہوسکتی ہیں، آج صبح سے سول اسپتال میں صرف باقیات ہی لائی گئی ہیں۔
ڈاکٹرسمعیہ کے مطابق ملبے سے اب لاشوں کے بجائے باقیات مل رہی ہیں جن کی حالت انتہائی خراب ہے، ان باقیات میں ٹوٹی ہوئی انسانی ہڈیاں اور ٹوٹے ہوئے دانت ملے ہیں، ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہونے کے باعث ڈی این اے کے لیے سیمپل بھی نہیں لیے جاسکتے، ڈی این اے ٹیسٹ نہ ہونے سے باقیات ورثا کے حوالے کرنے میں شدید مشکلات ہیں۔
خیال رہے کہ حادثے میں تین مزید لاشوں کی شناخت ہوگئی ہے جب کہ 17 لاشیں ناقابل شناخت ہیں۔
تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے، ڈمپر غائب ہونےکی اطلاع غلط ہے:ایڈیشنل آئی جی
ایڈیشنل آئی جی کراچی کا کہنا ہے کہ گل پلازہ واقعے میں اب تک تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے، باریک بینی سے تحقیقات کی جارہی ہیں، ڈمپر غائب ہونے کی اطلاع غلط ہے۔
کمشنرکراچی کا کہنا ہےکہ رمپا پلازہ کو کچھ نقصان پہنچا ہے لیکن عمارت خطرناک نہیں، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے رمپا پلازہ کو غیر محفوظ قرار دے دیا ہے۔ رمپا پلازہ انتظامیہ اور دکان مالکان کو نوٹس جاری کرکے رمپا پلازہ کےخطرناک حصے کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
گل پلازہ سانحے کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کمشنر کراچی کو سات فائلیں جمع کروائی ہیں۔ سات فائلوں میں سے تین گل پلازہ کے زیر التواء کورٹ کیسز اور خلاف ضابطہ تعمیرات کی دستاویزات ہیں۔
آپ کا تبصرہ